کشیدگی کی توسیع پر دلچسبی نہیں رکھتے ہیں: ایرانی سپہ سالار

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے ترک وزیر دفاع کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں کہا ہے کہ ایران علاقے میں کشیدگی کی توسیع پر دلچسبی نہیں رکھتا لیکن ہر کسی نامعقول جارحیت کا سختی سے جواب دے گا۔

ان خیالات کا اظہار میجر جنرل "محمد باقری" نے جمعرات کے روز ترکی کے وزیر دفاع جنرل "حلوصی آکار" کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران کیا۔

اس موقع پر ترک وزیر دفاع نے قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر ایرانی حکومت اور عوام کیساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کردیا۔

انہوں نے ایران اورترکی کے درمیان دوستانہ اور برادرانہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد جو حساس واقعات خطے میں وقوع پذیر ہوگئے وہ تشویش کن ہیں۔

ترک وزیر دفاع نے خطے میں قیام امن و استحکام کو علاقائی ممالک کے مفادات میں قرار دے دیا۔

انہوں نے علاقائی امن و استحکام کی فراہمی پر خطی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں دہشتگردوں کو خطی کشیدگی سے غلط فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

اس موقع پر ایرانی سپہ سالار نے ترکی وزیردفاع کے تعزیتی پیغام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ہاتھوں جنرل سلیمانی کی شہادت، ایک غیر اخلاقی اور غیر انسانی اقدام اور تمام بین الاقوامی حقوق اور قوانین کے منافی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے اس اقدام سمیت خطے میں اس کے دیگر اقدامات جیسے عراق میں رضا کار تنظیم الحشد الشعبی کے اڈوں پر حملہ بھی علاقے میں کشیدگی کے ایک نئے دور کا باعث بن گیا۔

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے امریکہ نے ایک ایسے وقت جب جنرل سلیمانی کی شہادت کے ذریعے خطے میں کشیدگی پیدا کی تب کشیدگی کی عدم توسیع کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن ایران نےعراق میں امریکی فوجی اڈےعین الاسد پر حملے کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ ہم اپنی سرزمین کے دفاع کرنے کا یقینی ارادہ رکھتے ہیں اور اگر امریکی شرانگیز اقدامات کا سلسلہ جاری ہیں ان کا سختی سے جواب دیں گے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 10 =