جوہری معاہدے کا مستقبل تین یورپی فریقین کے اقدامات پر منسلک ہے: ظریف

تہران، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کا مستقبل تین یورپی فریقین کے اقدامات پر منسلک ہے نہ کہ ایران۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے آج بروز بڈھ کو ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدے کیخلاف امریکی اقدامات پر یورپی فریقین کا جواب ایران سے تجارتی تعلقات کو منقطع کرنے اور ساتھ ساتھ ایرانی تیل کیخلاف پابندیاں لگانے کا ہے۔

ظریف نے بھارت میں منعقدہ رائے سینا ڈائیلاگ فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت، جبر کے تحت اپنے وعدوں کی خلاف وزی کر رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاہدے کا مستقبل تین یورپی فریقین کے اقدامات پر منسلک ہے نہ کہ ایران۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے حالیہ دونوں میں مشترکہ بیان میں تنازع کے حل کے میکنزم کے کھولنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یورپی ممالک اب بھی جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے خواہش مند ہیں۔

دوسری جانب ایران نے یورپی بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپی ممالک اس عمل کا ناجائز استعمال چاہتے ہیں تو پھر وہ نتائج بھگتنے کے لئے بھی تیار رہیں۔

ترجمان ایرانی وزار ت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جوہری معاہدے کی رو سے معاہدے کے تمام فریقوں پر مشتمل جوائنٹ کمیشن پندرہ دن کے اندر معاملے کے حل کا پابند ہے۔

کمیشن کی ناکامی کی صورت میں معاہدے میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ معاملے کو بیس دن میں حل کرنے کے پابندہوں گے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 2 =