ٹرمپ کی غلطیوں سے امریکہ کو بھاری اخراجات کا سامنا ہے: ایرانی وزیر دفاع

تہران، ارنا - ایرانی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی غلط پالیسیوں سے آج خطے میں امریکہ کو اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لئے بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑھ رہے ہیں.

 ان خیالات کا اظہار جنرل امیر حاتمی نے بدھ کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے اپنے شامی ہم منصب لیفٹیننٹ جنرل علی عبداللہ ایوب کیساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 اس موقع پر انہوں نے قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر شامی حکومت اور عوام کیجانب سے ایرانی حکومت اور عوام کیساتھ  ہمدردی کے اظہار پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد مزاحمتی فرنٹ کا راستہ ابھی کھلا ہے کیونکہ آج کی مزاحمت خطے میں ایک نظریہ اور گفتگو بن چکی ہے۔

اگر میجر جنرل سلیمانی اور اس کے ساتھیوں بشمول شام کی مسلح افواج  اور عوامی رضا کار فورس کے اقدامات نہ ہوتے تو اس خطے پر داعش کا تسلط ناگزیر ہوتا۔

ایرانی وزیر د فاع  نے کہا کہ یورپ سے لے کر ایشیاء اور امریکہ تک اپنی کی سلامتی کو آپ ہی کی اپثار کے مرہون منت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنرل حاتمی نے کہا کہ یہ خیال کہ کسی شخص کو جسمانی طور پر ہٹانے سے مزاحمتی فرنٹ کے بہاو کو روک دے گا یہ ایک اسٹریٹجک غلطی تھی جو ٹرمپ نے کی اور اس سے  علاقے میں امریکی موجودگی کی بھاؤ میں اضافہ کردیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکہ کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب  کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر "ابومهدی المهندس" شہید ہوگئے۔

امریکی ڈرون حملے میں جام شہادت نوش کرنے والے جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ پیر کے روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امامت میں تہران میں ادا کی گئی جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 4 =