امریکی جارحانہ اقدامات کا حقیقی بدلہ خطے سے اس کا انخلا ہے: سنیئر نائب ایرانی صدر

تہران، ارنا - سنیئر نائب ایرانی صدر نے کہا ہے کہامریکہ کی مجرمانہ اور غیر قانونی کاروائیوں خاص طور پرجنرل سلیمانی کا قتل کا اصل انتقام خطے سے اس کا انخلا ہے.

یہ بات اسحاق جهانگیری نے پیر کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے شامی وزیر اعظم کے ساتھ  ایک ملاقات میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں مغربی ممالک خصوصا امریکہ کی بے جا مداخلتوں سے خطے میں عدم تحفظ اور عدم استحکام پیدا ہوا ہے.

جہانگیری نے کہا کہ امریکہ نے داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی تشکیل کرکے علاقے خاص طور پر عراق اور شام میں بڑے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران بدستور شامی حکومت کے ساتھ کھڑے رہے گا اور امن اور استحکام کے قیام کے لیے اس ملک کی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کرے گا.

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ادلب کے مسئلہ کو مناسب طریقے سے حل کیا جائے گا.

انہوں نے شام کے ساتھ باہمی اقتصادی تعاون کی توسیع کے لیے ایران کی دلچسبی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے حالیہ دورہ شام کے دوران طے ہونے والے معاہدوں کا جائزہ اور ان پر جلد عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا.

جہانگیری نے کہا کہ جنرل سلیمانی خطے، آزادی پسندوں اور مزاحمتی گروپوں کے لیے مقابلہ کا مظہر تھا.

اس موقع میں شامی نخست وزیر عماد خمیس نے خطی ممالک پر جنگ مسلط کرنے کے لیے امریکہ کی سازشوں اور منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل سلیمانی کا قتل امریکہ کی ان سازشوں کی ایک واضح مثال تھی.

اس نشست میں شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ ٹرمپ کی حکومت کے دوران خفیہ جنگ کی حکمت عملی کا استعمال کر کے امریکہ یکطرفہ پابندیوں کے ذریعے اقوام پر غربت اور بھوک مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 0 =