13 جنوری، 2020 11:23 AM
Journalist ID: 2392
News Code: 83631961
0 Persons
امریکہ کی وجہ سے خطے کو کشیدگی کا سامنا ہے: ایرانی صدر

تہران، ارنا - ایرانی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ کی عسکری مہم جوئی اور موجودگی سے خطے کو شدید بدامنی اور کشیدگی کا سامنا ہے.

ڈاکٹر روحانی نے سوئڈن وزیراعظم کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ امریکی موجودگی کی وجہ سے علاقی قوموں کے درمیان شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے.
اس موقع پر انہوں نے خطی سلامتی کی فراہمی کے لئے باہمی کوششوں کی ضرورت اور تمام ممالک کی علاقائی سالمیت کے احترام کرنے پر زور دیا.
صدر روحانی نے یوکرائنی طیارے گرجانے کے نتیجے میں کچھ سویڈش شہریوں کے انسانی جانوں کے ضیاع پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران حتمی نتیجہ پہنچنے تک مکمل ریسرچ کو جاری رکھے گا اور حاصل ہونے والے تمام نتائج واضح طور پر پیش کئے جائیں گے.
انہوں نے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے ابتدائی تحقیقات کے بعد اس طیارے گرنے کی حقیقی وجہ کے اعلان کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں دنیا میں کہیں بھی ایسے افسوسناک واقعات کو رونما ہونے سے روکنے کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔
انہوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو مل کر اس خطے میں سلامتی کی واپسی کے لئے کوشش کرنا ہوگا اور امن کو بالادست رہنے دینا چاہئے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ علاقائی مسائل صرف خطے ممالک کے درمیان سیاسی مذاکرات کے ساتھ حل کئے جا سکتے ہیں لہذا ممالک کی علاقائی سالمیت کے احترام کرنے کی ضرورت ہے.
انہوں نے جنرل سلیمانی کی مظلومانہ شہادت کے انتقام کے سلسلے درجنوں میزائلوں سے امریکی ائیربیس عین الاسد پر حملے کو بالکل قانونی اور اقوام متحدہ کے چارٹر نمبر 51 کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں حالیہ واقعات کا ذمہ دار ہے اور سب کو اس کے جرائم کو مذمت کرنا چاہیئے.
سویڈش وزیر خارجہ نے یوکرائنی طیارے گرجانے پر اپنے افسوس کا اظہار کے ساتھ ایران کو اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کی تعریف کرتے ہوئے اس واقعے کے حتمی نتائج کی دستیابی کے لئے بھرپور تحقیقات کا مطالبہ کیا.
انہوں نے خطے میں بڑھتے ہوئے تنازعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے کی سلامتی کی فراہمی کے لئے باہمی کوششیں ناگزیر ہے.
لوون نے کہا کہ ہمارا ملک اور یورپی یونین کے دوسرے ممالک کے ساتھ خطے میں تنازعات کو بڑھانے کی مخالف ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ خطی سلامتی کی واپسی کے لئے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کا خیر مقدم کرتے ہیں.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 9 =