امریکہ کے پاس خطے کو چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں: ایرانی سفارتکار

اسلام آباد، ارنا – پاکستانی شہر کراچی میں تعینات ایرانی قونصلر جنرل نے کہا ہے کہ بعض مختلف ممالک علاقے کی سلامتی کی فراہمی کے لئے غیرعلاقائی طاقتوں پر انحصار کرتے ہیں جبکہ امریکہ کے پاس افراتفری کے بجائے خطے کو چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے.

یہ بات "احمد محمدی" نے اتوار کے روز "مغربی ایشیا کی تبدیلیوں کا جائزہ لینا" کے عنوان سے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے علاقائی صورتحال پر اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسیوں کی وضاحت کی.
محمدی نے ایران میں انسانی غلطی کی وجہ سے یوکرائنی مسافر بردار طیار گرجانے اور امریکہ کے ذریعہ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکہ کی غیرقانونی فوجی موجودگی کے خلاف علاقائی عوام کے درمیان باہمی اتحاد کی مبنی پر اس کے پاس خطے کو چھوڑنے اور علاقائی قوموں پر احترام کرنے کے سواء کوئی چارہ نہیں ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ بعض علاقائی ممالک نے اپنی سیکورٹی کی فراہمی کے لئے امریکہ پر انحصار کیا ہے جبکہ امریکہ نہ صرف اپنی فورسز کی سلامتی کو فراہم نہیں کرسکتا ہے بلکہ خطے میں ان کی موجودگی بڑھتے ہوئے بدامنی کا باعث بن گئی ہے.
انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک کو غیرعلاقائی طاقتوں پر انحصار کو ترک اور اپنی سلامتی کی فراہمی کے لئے اجتماعی اقدام اٹھانا ہوگا.


انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ہرگز قابل بھروسہ نہیں اور خطے میں ان کی فوجی موجودگی قانونی طور پر جائز نہیں رہی۔
ایرانی قونصلر جنرل نے کہا کہ امریکہ نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے ساتھ خطے میں دہشتگردوں بالخصوص داعش کی کاروائیوں کو آسان بنا دیا اور سب ممالک امریکہ کے بزدلانہ اقدام کے نتیجے میں دہشتگرد گروہوں کی خوشی پر واقف ہیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی قابل خریداری نہیں بلکہ علاقائی ممالک کو اجتماعی تعاون کے ساتھ علاقائی امن کی فراہمی کے لئے کوشش کرنا چاہئیے کیونکہ امریکیوں کی مسلسل موجودگی اور عدم تحفظ کا تسلسل اقوام اور حکومتوں کے سوا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
ایران میں سابق پاکستانی سفیر "نجم الدین شیخ" نے کہا کہ آج امریکہ میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف آواز سن جاتی ہے اور امریکی عوام جنرل سلیمانی کے قتل کو غیرقانونی اقدام قرار دیتے ہیں.
شیخ نے کہا کہ جنرل سلیمانی کی شہادت ایرانی قوم کے درمیان باہمی اتحاد کا باعث بن گئی اور ان کی مظلومانہ شہادت کے انتقام کے سلسلے درجنوں میزائلوں سے امریکی ائیربیس عین الاسد پر حملہ وائٹ ہاؤس کے لئے ایک اہم پیغام کا حامل تھا اور اسلامی جمہوریہ ایران نے واضح اعلان کردیا کہ امریکہ پر نقصان پہچانے کے لئے صلاحیت رکھتا ہے.
تفصیلات کے مطابق، پاکستانی ادارہ برائے بین الاقوامی تعلقات (PIIA) کے زیر انتظام منعقد ہونے والے اجلاس میں پاکستانی سنئیر ماہروں، سابق سفارتکاروں، سیاسی اور سماجی سرگرم افراد نے شرکت کی.


ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 12 =