طیارہ حادثے کی تحقیقات کے اختتام تک تہران اور کیف کے تکنیکی تعاون جاری رہے گا: صدر روحانی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے اپنے یوکرائنی ہم منصب کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران کہا ہے یوکرائنی طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے اختتام تک تہران اور کیف کے درمیان تکنیکی تعاون جاری رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حادثے میں غلطی سرزد ہونے والوں کو نہیں بخشایا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے یوکرائنی ہم منصب کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران ایرانی مسلح افواج کے جاری شدہ بیان اور طیارے حادثے کے حتمی نتیجے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان میں انسانی غلطی کو طیارے گرجانے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حادثے میں غلطی سرزد ہونے والوں کو انصاف کے کھٹرے میں لائیں گے۔

 صدر روحانی نے اس بات پر زور دیا کہ  یوکرین سے آئے ہوئے ماہرین سے تحقیقاتی عمل جاری رہے گا اور ساتھ ساتھ ایرانی عدلیہ نے اس حوالے جلد از جلد اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرے گی۔

انہوں نے اس حادثے میں ایرانی اور دوسرے ممالک کے شہریوں کے جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کر دیا۔

صدر روحانی نے کہا کہ قریب مستقبل میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک نمائندہ یوکریں کا دورہ کریں گے اور قریب سے یوکرائنی حکومت اور عوام سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔

 صدر روحانی نے مزید کہا کہ اس حوالے سے اپنی تمام قانونی ذمہ داریوں کا پاسداری کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ  وہ ایرانی وزیر خارجہ کو اپنے یوکرائنی ہم منصب کیساتھ رابطے میں رہنے کی ہدایت دیں گے اور اس حوالے سے باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اس موقع پر یوکرین کے صدر نے اس حادثے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کی تکمیل تک تہران اور کیف کے درمیان تکنیکی تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔

خیال رہے ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ختم ہونے کے کچھ گھنٹے بعد یوکرین کا طیارہ ایران کے امام خمینی ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا جس میں سوار 167 مسافر  اور 9 عملے جاں بحق ہوگئے تھے۔

مسافر طیارہ تہران سے یوکرین کے دارالحکومت کیف جا رہا تھا، طیارے میں 147 ایرانی اور 32 غیر ملکی مسافر سوار تھے۔

ایرانی مسلح افواج اندرونی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ میزائل انسانی غلطی کی وجہ سے فائر ہوا جس کے نتیجے میں یوکرائنی طیارہ تباہ ہوا، اور معصوم لوگ جاں بحق ہوگئے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا حادثہ افسوس ناک ہے، متاثرہ خاندانوں سے معذرت چاہتے ہیں، طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا مہم جو امریکہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 7 =