ایران انتقام نہ لیتا تو امریکہ مزید سرکش ہوجاتا: سابق برطانوی سفیر

لندن، ارنا - شام میں تعینات برطانیہ کے سابق سفیر نے امریکہ کے ہاتھوں جنرل سلیمانی کے قتل کو بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے بدلہ نہ لیا ہوتا تو امریکہ مزید سرکش ہوجاتا.

ان خیالات کا اظہار "پیٹر  فورد" نے  بدھ کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ہاتھوں ایرانی کی اعلی فوجی کمانڈر کی شہادت امریکہ کی ایک بہت بڑی غلطی تھی جو صورتحال کو اور ابتر کرنے کا باعث بن گئی ہے۔

سابق برطانوی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے پاس سخت بدلہ لینے کے سوا کوئی اور آپشن موجود نہیں تھا کیونکہ اگر ایران بدلہ نہیں لیتا تو امریکہ اور سرکش ہوجاتا تھا.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکہ کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب  کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر "ابومهدی المهندس" شہید ہوگئے۔

واضح رہے کہ پاسداران انقلاب کی فضائیہ نے گزشتہ رات امریکی حملے میں جام شہادت نوش کرنے والے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کا بدلہ لیتے ہوئے عراق میں امریکیوں کے زیر استعمال فوجی اڈوں پر میزائل حملے کردیے۔

ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے 35 مقامات اہداف پر ہیں جس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ہمارے پاس دنیا کی سب سے بہترین فوج ہے، اگر ایران نے حملہ کیا تو ان کے بہت سے مقدس اور اہم ثقافتی مقامات سمیت 52 اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 7 =