امریکہ خطے میں فساد کی جڑ، اس کی موجودگی ختم ہونی ہوگی: آیت اللہ خامنہ ای

تہران، ارنا - سپریم لیڈر ایران نے فرمایا ہے کہ پاسدران انقلاب نے گزشتہ رات امریکیوں کے منہ پر طمانچہ مارا مگر ایسی عسکری کاروائیاں کافی نہیں بلکہ فساد پھیلانے والی امریکی موجودگی کو اس خطے میں ختم کرنا ہوگا.

یہ بات آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے آج بروز بدھ ایرانی شہر مقدس قم کے لاکھوں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

سپریم لیڈر نے شہید جنرل قاسم سلیمانی کی مثالی جد و جہد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جنرل سلیمانی نے ان مکروہ سازشوں کو بے نقاب کیا جنہیں امریکہ کے پیسے اور وسائل سے تیار کیا گیا تھا.

انہوں نے مزید فرمایا کہ اس عظیم شہید کی بدولت عراق، شام اور لبنان کو تباہ کرنے کے لئے امریکہ کی شیطانی سازشیں ناکام رہ گئیں.

ایران کے سپریم لیڈر  حضرت آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ میزائل حملہ امریکہ کے منہ پر طمانچہ ہے اور صرف فوجی کارروائی کافی نہیں بلکہ خطے میں امریکا کی موجودگی ختم ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ ایرانی قوم آج دنیا کے غنڈوں کے خلاف متحد ہوگئی ہے، امریکی اور اتحادی افواج پر حملہ کامیاب رہا، امریکا جہاں بھی جاتا ہے تباہی اور فساد لاتا ہے لیکن ایران مخالفین کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا جنرل قاسم سلیمانی ایران کے بہادر سپوت تھے، ان میں کوئی منافقت نہیں تھی۔قاسم سلیمانی سیاسی میدان میں بھی جرات کامظاہرہ کرتے تھے۔انہوں نے امریکی جارحیت کا جراتمندی سے مقابلہ کیا۔

قائد اسلامی انقلاب نے فرمایا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر ایرانی قوم صدمے کا شکار ہے لیکن آج کا ایرانی نوجوان ماضی کی نسبت انقلاب پر زیادہ اور کامل یقین رکھتا ہے۔

 انہوں نے مزید فرمایا کہ ہم اپنے دفاع میں کسی بھی قسم کی کارروائی سے دریغ نہیں کریں گے۔

 انہوں نے کہا قرآن پاک میں بھی دشمنوں سے خبردار رہنے کا کہا گیا ہے جو جنگ مذہبی جوش و خروش سے لڑی جائے اس میں اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔

قائد انقلاب نے فرمایا کہ دشمن کو پہنچاننا ہوگا، دشمن سے مراد امریکہ، ناجائز صہیونی ریاست اور سامراج قوتیں ہیں اور ان سامراج طاقتوں میں محض امریکہ اور اسرائیل شامل نہیں بلکہ دنیا میں ایک ایسے ادارے اور حلقے ہیں جو ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے سخت مخالف ہیں.
انہوں نے مزید فرمایا ہے کہ خطے میں جو بھی ملک یا حکمران ہمارے خلاف باتیں کریں جب تک وہ ایرانی کے خلاف کوئی حرکت نہ کریں تب تک ہم ان کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے ہیں لہذا دشمن کی شناخت میں غلطی نہیں ہونی چاہئے.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 1 =