ایران کے ثقافتی مقامات کیخلاف ٹرمپ کی دہمکیاں شرمناک ہیں: نامور پاکستانی مفکر

اسلام آباد، ارنا – ای سی او کلچرل انسٹی ٹیوٹ کے سابق سربراہ کے سابق سربراہ نے امریکی حالیہ دہشت گردانہ حملے جس کے نتیجے میں جنرل سلیمانی اور ان کے ساتھیوں شہید ہوگئے، کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی ثقافتی مقامات پر حملے کیلیے ٹرمپ کی دہمکی شرمناک ہے.

یہ بات ڈاکٹر افتخار حسین عارف نے پیر کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر دنیا کی مظلوم اور آزاد قومیں امریکہ کے اس شرمناک اور وحشیانہ حملے کی مذمت کر کے عراقی اور ایرانی عوام سے ہمدردی کا اظہار کریں گی.
ڈاکٹر افتخار حسین عارف نے کہا کہ عراق ایک خودمختار ملک ہے اور جنرل سلیمانی کا میزبان تھا لیکن امریکہ نے تمام بین الاقوامی قوانین اور وعدوں کو پامال کرکے اس ظالمانہ اقدام اٹھایا.
پاکستان کے نامور مفکر اور فلسفی نےنے ایرانی ثقافتی مراکز پر ٹرمپ کی دہمکی کے ردعمل میں کہا کہ ایک عام آدمی یہ بھی سمجھتا ہے کہ کسی ملک کے ثقافتی اور قومی ورثے پر حملہ کرنا ایک احمقانہ اقدام ہے۔
یاد رہے کہ جمعہ کی علی الصبح کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ کے قریب امریکہ کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر "ابومهدی المهندس" شہید ہوگئے۔
ایرانی دارالحکومت تہران میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر قدس فورس شہید جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے جنازے کا آج آغاز ہوگیا ہے جنہیں الوداع کرنے کے لئے لاکھوں ایرانی امڈ آئے.
ایرانی قائد اسلامی انقلاب آیت اللہ العظمی "سید علی خامنہ ای" شہید قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے جسم خاکی پر نماز جنازہ ادا کیا.
شہید قاسم سلیمانی کے جسم خاکی کو منگل کے روز اپنے آبائی علاقے صوبے کرمان میں سپرد خاک کیا جائے گا.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 9 =