سوئس سفیر کو تیسری بار ایرانی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا

تہران، ارنا – نائب ایرانی وزیر برائے سیاسی امور سید عباس عراقچی نے مریکی مفادات کی نگہبانی کرنے والے تہران میں تعینات سوئس سفیر کو طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق امریکی صدر کے خصمانہ اور دہمکی آمیز بیانات جنگی جرائم کی واضح مثال ہے۔

سید عباس عراقچی نے آج بروز اتوار تہران میں تعینات سوئٹرزلینڈ کے سفیر' جن کا ملک امریکی مفادات کا نگہبان ہے، کو دوسری بار کے لیے محکمہ خارجہ میں طلب کر کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران مخالف بیان پر احتجاج کیا.
سوئٹرزلینڈ کے سفیر' نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے احتجاج کو فوری طور امریکی حکام تک پہنچایا جائے گا.

انہوں نے کہا کہ ثفافتی مراکز پر حملے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی دہمکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا خطرہ تاریخی مقامات کو تباہ کرنے  کے لیے مغلوں کے حملے یا دہشت گردوں کی کارروائیوں سے مشابہت رکھتا ہے، جو یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ، ایک جنگی جرم ہے.

عراقچی نے کہا کہ ایران اپنی علاقائی سلامتی اور سالمیت کے خلاف کسی بھی خطرے یا کارروائی کا جواب دینے کے لئے تیار ہے۔

نائب ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی حکومت اور قوم کی درخواست پر جنرل سلیمانی کے قتل کے لیے تمام سیاسی اور قانونی اقدامات کے علاوہ امریکی کارروائی کا بروقت جواب دیا جائےگا.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 7 =