ظریف کی اپنے آرمینی اور ترکمن ہم منصبوں کیساتھ جنرل سلیمانی کی شہادت کی تبدیلیوں پر گفتگو

تہران، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے آرمینی اور ترکمانی ہم منصبوں کے ساتھ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد تبدیلیوں پر بات چیت کی.

"محمد جواد ظریف" نے اتوار کے روز آرمینیا اور ترکمانستان کے وزرائے خارجہ "ظہراب مناتساکانیان اور رشید مردوف" کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں گفتگو کی.
فریقین نے امریکہ کے ذریعہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر "ابومهدی المهندس" کی شہادت کے بعد آنے والی نئی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا.
ظریف نے فلسطین کی اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ اور فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ "اسماعیل ہنیہ" کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں امریکی وحشیانہ اقدام پر بات چیت کی.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے گزشتہ دو دن کے دوران اپنے روسی، چینی، عراقی، آذری، ترک اور تاجک ہم منصبوں کے علاوہ یورپی یونین کے چیف خارجہ پالیسی اور افغان چیف ایگزیکٹو "عبداللہ عبداللہ" کے ساتھ شہید جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد نئی صورتحال کا جائزہ لیا.
یاد رہے کہ جمعہ کی علی الصبح کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکہ کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر "ابومهدی المهندس" شہید ہوگئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، شہید جنرل قاسلم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے جسد خاکی کو آج بروز اتوار جنوبی شہر اہواز کے بعد مشہد مقدس میں لیا گیا اور اب بارگاہ امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام میں جنازے کی ادائیگی کی تقریب منعقد جا رہی ہے۔
شہید قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے جسد خاکی پیر کی صبح تہران لائی جائیں گی اور نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کے آبائی شہر کرمان منتقل کردی جائیں گے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 6 =