ایران اور عراق کے وزرائے خارجہ کا امریکی حالیہ دہشتگردی کے اثرات کا جائزہ

تہران، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے وزرائے خارجہ نے ایک ٹیلیفونک رابطے کے دوران، امریکہ کے حالیہ دہشتگردانہ اقدام کے اثرات کا جائزہ لیا۔

تفصیلات کے مطابق، "محمد علی الحکیم" نے آج بروز ہفتہ کو ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران "محمد جواد ظریف" کو جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔

اس موقع پر دونوں فریقین نے خطے کی تازہ ترین تبدیلیوں سمیت عراق کی صورتحال حال پر بات چیت کی۔

ظریف نے اس ٹیلی فونک رابطے کے دوران، امریکی ہاتھوں قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المنہدس اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کو دہشتگردانہ اقدام قرار دیتے ہوئے عراق کی آزادی اور قومی سالیمت کے تحفظ پر زور د یا۔

اس کے علاوہ دونوں فریقین نے امریکہ کے اس دہشتگردانہ اقدام کے نتیجے میں خطے میں رونما ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا۔

واضح رہے کہ محمد جواد ظریف آج بروز ہفتہ کو اپنے ترک اور آذربائیجان کے ہم منصبوں کیساتھ  ٹیلی فونک رابطے کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے آج بروز ہفتہ کو بھی اپنے قطری ہم منصب "محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی" کیساتھ  ملاقات اور خطے کی تازہ تریں تبدلیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

 اس کے علاوہ افغان چیف ایگزیکٹو "عبداللہ عبداللہ" نے ایرانی وزیر خارجه کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں حکومت ایران اور عوام سے قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے.

چین کے اور تاجیکستان کے وزرائے خارجہ نے بھی ایرانی وزیر خارجہ کیساتھ ٹیلی فونک رابطے کی دوران، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت کرنے سمیت جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد خطے میں رونما ہونے والے اثرات کا جائزہ لے لیا۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ محمد جواد ظریف نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل "انٹونیو گوترش" کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کے ہاتھوں جنرل قاسم سلیمانی کی مظلومانہ شہادت کو دہشتگردی اور مجرمانہ عمل قرار دیا.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 0 =