امریکہ کے سامنے متفق نہ ہوتے ہوئے تو علاقے کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے: ایرانی صدر

تہران، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ہاتھوں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کو اس کی بہت بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جارحیت کرنے والے کیخلاف خاموش رہیں تو اس کی جارحیت میں اور اضافہ ہوگا۔

 ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حسن روحانی نے ہفتہ کے روز اپنے ترک ہم منصب "رجب طیب اردگان" کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی کسی کشیدگی کا آغاز نہیں کیا ہے۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ اگر خطی ممالک، امریکہ کے سامنے متفق نہ ہوجائیں تو خطے کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔

انہوں نے اس عظیم مصیبت میں ترکی صدر کیجانب سے ایرانی حکومت اور عوام کیساتھ ہمدردی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکی نے ہمیشہ پیچیدہ مسائل سے متعلق ایک دوسرے کیساتھ باہمی مشاورت کی ہے۔

ایرانی صدر نے اس بات پر زور د یا کہ اگر امریکی بیوقوفانہ اقدامات کیخلاف خاموش رہیں تو اس کے ظلم اور جارحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم قرآن پاک کے حکم سے نہ ظلم کریں گے اور نہ ہی ظلم اور ستم کے سامنے سر جھکائیں گے۔

صدر روحانی نے علاقے میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں جنرل سلیمانی کے انتہائی اہم کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے حالیہ سالوں کے دوران اپنے علاقائی اور اسلامی فرض کا پوری طرح نبھایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم، امریکہ کے اس دہشتگردانہ اقدام سے شدید غصے میں ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام، انتہائی غلط اور بیوقوفانہ تھا کیونکہ اس نے عراق کی قومی سالیمت اور خودمختاری کی خلاف وزی کرتے ہوئے عراقی سرزمین میں دہشتگردانہ اقدام کیا ہے جو کہ عراق کی آزادی کے منافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے کسی اور حکومت کیخلاف ایک منظم یافتہ ریاستی دہشتگردی کی ہے اور ایران کی اعلی ترین فوجی کمانڈر کو بھی شہید کیا ہے اسی لئے اگر ہم اس کے سامنے متفق نہ ہوجائیں تو خطے کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔

 ایرانی صدر نے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں ہمارے دوست اور پڑوسی ممالک، امریکہ کے اس دہشتگردانہ اقدام کی شدت سے مذمت کریں۔

انہوں نے شام کی تازہ تریں تبدیلیوں سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شامی مسئلے کے حل کیلئے ایران، روس اور ترکی کے سہ فریقی سربراہی اجلاس کے فریم ورک کے اندر کوششیں جاری رہیں گی۔

ایرانی صدر نے ترکی کیساتھ تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ مستقبل قریب میں دارالحکومت تہران میں رجب طیب اردگان کیساتھ ملاقات کریں گے۔

اس موقع پر ترک صدر نے قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر ایرانی سپریم لیڈر سمیت ایرانی عوام اور حکومت کو تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے خطے میں قیام امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں غیر خطی ممالک کی مداخلت اور علاقائی تناؤ سے علاقے میں قیام امن کا امکان نہیں لہذا ہمیں اس طرح کے اقدامات سے خطی سلامتی اور امن کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

ترک صدر نے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں دارالحکومت تہران میں ایرانی صدر سے ملاقات میں باہمی اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 9 =