امریکہ آسانی سے اپنے بیوقوفانہ اقدام کے نتائج سے نجات نہیں پائے گا

تہران، ارنا – ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اپنے ایک بیان میں اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ امریکی حکومت کے ہاتھوں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت سب سے بڑی اسٹریٹجک غلطی تھی اور امریکی انتظامیہ اپنی حساب کتاب کی غلطیوں کے نتائج سے آسانی سے چھٹکارا نہیں پا سکے گا۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل جمعہ کی رات اپنے ایک بیان میں اعلان کردیا کہ امریکی حکومت کے ہاتھوں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے جواب میں متعلقہ فیصلہ کرے گی۔
ایران کی قومی سلامتی کی سپریم کونسل نے اپنے غیر معمولی اجلاس کے دوران اس واقعے کے متعدد پہلوؤں کا جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کیا اوراعلان کیا کہ اس کے تمام نتائج کے لئے امریکی حکومت ذمہ دار ہوگی۔
اس بیان نے یہ بھی نشاندہی کی کہ امریکہ کو یہ جان لینا چاہئے کہ جنرل سلیمانی کے خلاف مجرمانہ حملہ مغربی ایشیاء میں سب سے بڑی اسٹریٹجک غلطی تھی اور وہ اس احمقانہ مہم جوئی کے نتائج سے آسانی سے چھٹکارا نہیں پاسکیں گے۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس طرح کے اندھے اور بزدلانہ اقدامات سے اسلامی جمہوریہ ایران کی اپنی مزاحمتی پالیسیوں پر قائم رہنے کے عزم کو تقویت ملے گی۔
اس بیان کے مطابق، بلا شبہ یہ جرم عراق اور شام میں داعش اور تکفیری دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا بدلہ تھا۔
یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب فورس کی القدس بریگیڈ کے ممتاز کمانڈر جنرل "قاسم سلیمانی" جمعہ کے روز علی الصبح بغداد میں دہشت گردی کی کارروائی میں شہید ہوگئے تھے۔
امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہوائی حملہ اور جنرل سلیمانی کے قتل کا حکم دیا.
قائد اسلامی انقلاب نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں جنرل سلیمانی کی مظلومانہ شہادت پر ایران میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا.
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں امریکہ کے دہشتگردی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے ایک ہنگامی نشست کا انعقاد کیا.
اسلامی جمہوریہ ایران نے تہران میں تعینات سوئٹزرلینڈ کے سفیر جن کا ملک امریکی مفادات کا نگہبان ہے، کو محکمہ خارجہ میں طلب کیا ہے.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 3 =