"ناہارخوران" کی خوبصورتی نے سب کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے

تہران، ارنا- رُت بدلی تو دلفریب نظارے غیر ملکی سیاحوں کو ایران کے شمالی صوبے گرگان میں واقع جنگلی علاقے "ناہارخوران" کھینچ لائے جس کی خوبصورتی نے سب کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔

صوبے گرگان پہنچتے ہی دو تین سڑکوں کو پیچھے چھوڑنے کے بعد جنگلی علاقوں میں داخل ہوتے ہیں، یوں لگتا ہے جیسا جنگل، ٹھیک شہر کے بیج میں واقع ہوگیا ہے۔

صوبے کے تمام شہروں میں ناہارخوران Nahar Khoran کی نشانیاں دیکھائی دیتی ہیں۔

اس علاقے کے نام کو کیوں ناہارخوران رکھا گیا ہے؟

پہلی نظر میں ناہارخوران ایک ایسی جگہ ہے جہاں دو پہر کا کھانا کھایا جاتا ہے اور شاید اس جنگلی علاقے کے نام کو بھی اسی لئے ناہار خوران رکھا گیا ہے۔

سیاحتی دلچسبیاں

اس جنگلی علاقے کے نباتات، تن تنہا ہی حیرت انگیز ہیں اس میں لگائے گئے مختلف قسم کے درختوں میں سے ہم شمشاد، سرو، برگ نو، ماگنولیا، بید مجنون، پائن، پاپیٹل اور تامیچی کا نام لیا جا سکتے ہیں۔

 یہاں کے آبائی درختوں میں جنگلی چیری، میپل، سدا بہار، ہارنبیم ، للی اور بلوط بھی شامل ہیں۔ اس خوبصورت جنگل میں طرح طرح کے درختوں کیساتھ  کرسنتیممس، رسبری، آزالیہ اور بھیڑیے بھی ملتے ہیں۔
 

بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں جانوروں کی کچھ اقسام جنگل میں انسانی مداخلت اور موجودگی کی وجہ سے ناپید ہوگئیں ہیں لیکن دیگر باقی پرجاتیوں میں ہم، ہاک، اللو، قمری،عقاب، بیٹ، کوا، نواس، گیدڑ، بیٹل، چڑیا، چوہا، گلہری، چھپکلی و غیرہ کا نام لیا جا سکتے ہیں۔

ناہارخوران جنگلی علاقے میں ایگ گہرا پانی دریا بھی بہتا ہے جس کا سرچشمہ "زیارت" نامی دریا ہے۔

سفید چشمہ بھی اس جنگلی علاقے کے اہم ترین چشموں میں سے ایک ہے جو اونچائیوں پر واقع ہونے کی وجہ سے تازہ ہوا سے لطف اندوز ہونے کیلئے بہترین جگہ ہے۔

سفید چشمہ اور یہاں میں واقع دیگر چشمے دراصل اس جنگی پارک کے آبی وسائل ہیں۔

"بابا طاہر" نامی پہاڑی تل جہاں پورے شہر کو دیکھا جاسکتا ہے اور پارادیزعلاقہ جس میں تفریحی پارک، ریسٹورانٹ اور ہوٹل بھی موجود ہیں، بھی ناہارخوران کی سیاحتی دلچسبیوں میں سے چند ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ  اس علاقے میں واقع "الگندرہ" وادی بھی ایران کے انوکھے سیاحتی دلچسبیوں میں سے ایک ہے جہاں وادی کا درجہ حرارات تقریبا آس پاس شہروں کے درجہ حرات سے 10 سنٹی گرڈ کم ہے۔

ناہارخوران جنگل میں واقع "قلاشی" نامی دریا بھی اس جنگلی پارک کے شمال سے جنوب تک بہتا رہتا ہے اور تقریبا جنگل کے بیج میں واقع ہے۔
 

ناہارخوران جنگل کے 10 کلومیٹر آگے ہم زیارت نامی گاؤں کو دیکھتے ہیں جس میں حالیہ سالوں کے دوران اتنے بنگلے بنائے گئے ہیں کہ گاؤں سے کچھ نہیں بچ گیا ہے۔

اس گاؤں کی سیاحتی دلچسبیوں میں سے اس کے لطف اندروز موسم، گرم پانی کے چشموں، امام بارہ سمیت وہ مزے دار روایتی روٹھی ہے جو سڑک کے کنارے پر بیجی جاتی ہیں۔

ناہار خوران میں گھومنے پھرنے اور سیر و تفریح

4 کروڑ کی تاریخ پر پھیلے ہوئے اس ہیرکانی جنگل کی سیر تو بجائے خود باعث تفریح ہے لیکن آپ کو وہاں کچھ دنوں کیلئے رہنے کا ارادہ ہے تو ہم آپ کو جنگلات اور پہاڑوں پر چلنے کی تجویز دیتے ہیں۔

گھنے اونچے درختوں کے درمیان چلنے کا بہت ہی لطف ہوتا ہے اور جنگل میں پیدل چلنے او وہاں کی سیر کرتے وقت آپ النگدرہ جنگلی پارک تک پہنچتے ہیں جس کا ذکر اوپر میں کیا گیا۔

اس کے علاوہ ناہارخوارن علاقے میں ایک ایسے بلند و بالا مقامات موجود ہیں جہاں پہاڑ پر چلنے کے شوقین افراد کچھ گھنٹوں کیلئے جا کر لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

ناہارخوران کے بلند و بالا مقامات تقریبا سمندر کی سطح سے 450 میٹر کی بلندی پر واقع ہیں لیکن بعض مقامات میں اسی کی اونچائی اور زیاد ہیں اور وہ سمندر کی سطح سے 700 الی 900 میٹر کی بلندی پر واقع ہیں۔

کوہ پیماؤں کے زیر استعمال اونچے مقامات، ناہارخوران اسکوائر کے مغرب اور جنوب مغرب میں واقع ہے جو ان کیلئے سفید چشمہ اور اونچائیوں تک پہنچنے کا اہم راستہ ہے۔

ان پہاڑوں میں پرانی اور خوبصورت پتھر کی سیڑھیاں ہیں جو ان بلندیوں تک پہنچنے میں مزید آسانیاں لائیں گی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 2 =