ایران، امن کے فروغ اور تشدد کیخلاف جنگ کے نظریے کا بانی ہے

سمنان، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران میں قائم اقوام متحدہ کے انفارمیشن ادارہ کی خاتون سربراہ نے کہا ہے کہ ایران نے مختلف ادوار میں امن اور مکالمے کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ تشدد اور انتہا پسندی کیخلاف جنگ کیلئے بین الاقوامی تجاویز پیش کی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "ماریا دونتسکو" نے اتوار کے روز جنوب مغربی صوبے سمنان "ایران اور اقوام متحدہ کے تعاون سے متعلق تصاویر اور تاریخی دستاویزات" کی نمائش کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی پیش کردہ عالمی تجاویز سے امن، دوستی اور باہمی مکالمے کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کیا ہے۔

دونتسکو نے کہا کہ ان تجاویز میں سے ایک ایران کیجانب سے تہاذیب کے درمیان مکالمے کی تجویز ہے جس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے حمایت کی اور 2001ء کو بھی تہاذیب کے درمیان مکالمے کا نام رکھ دیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں قائم اقوام متحدہ کے انفارمیشن ادارہ کی خاتون سربراہ نے ایرانی صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کیجانب سے "تشدد اور افراطی گرائی کیخلاف دنیا کی جنگ" کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رکن ممالک نے اس تجویز کی حمایت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2013ء میں اس قرارداد کی حمایت کی اس کو 2015ء اور 2017ء کے دوران بھی بروئے کا لایا۔

دونتسکو نے مزید کہا کہ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی اقوام متحدہ کے ایجنسیوں کیساتھ مل مل کر کام کرنے کی پختہ عزم سے ایران کیجانب سے اس بین الاقوامی تنظیم کی حمایت اور اس سے باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کو ظاہر کرتی ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 6 =