22 دسمبر، 2019 1:44 PM
Journalist ID: 2393
News Code: 83603933
0 Persons
کوالالامپور میں ایرانی صدر کی سیاسی مشاورت

تہران، ارنا – ایرانی صدر حسن روحانی نے حالیہ دنوں میں ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور سمٹ میں شرکت کے لیے اس کا باضابطہ دورہ کیا تھا، یہ نشست نہ صرف ایران اور اسلامی ممالک کے درمیان نئے افکار و نظریات کو پیش کرنے کے لیے ایک موقع تھی بلکہ بین الاقوامی سطح میں تہران کی دو طرفہ اور چند فریقی سیاسی مشاورت کے لئے بھی ایک اہم مرکز تھی

٭٭ایرانی صدر کا دورہ کوالالامپور

ایرانی صدر نے ملائیشیا میں اپنے تین روزہ قیام کے دوران کوالالامپور کے سربراہی اجلاس میں تقریر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ملاقات کر کے ایران کے علاقائی اور بین الاقوامی مواقف کی وضاحت کی.

اس نشست میں ایرانی صدر نے عالم اسلام کے درپیش چیلنجوں کے حل کے لیے کچھ تجاویز پیش کی.

صدر روحانی نے جمعرات کےروز اس اجلاس کی میزبانی کے لیے ملائیشیا کے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عالم اسلام کی ترقی کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہماری ذمہ داری ہے.

٭٭ایرانی صدر کی ملائیشیا مقیم ایرانی شہریوں کے ساتھ ملاقات

ایرانی صدر نے کوالالامپور میں اپنے قیام کے پہلے دن میں ملائشیا میں مقیم ایرانیوں سے ملاقات کی جس میں ایرانی طلباء، اساتذہ او تاجروں نے اپنے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ان مشکلات کے حل کے لیے ایرانی صدر سے مدد کی اپیل کی۔

٭٭ایران اور ملائیشیا کے درمیان مذاکرات

روحانی نے ملائیشیا کے دورے کے دوران ملائیشیا کا بادشاہ ' سلطان عبدالله' کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کے مسائل مسلم ممالک کی یکجہتی کے بغیر ممکن نہیں ہے.

انہوں نے کہا کہ فلسطین مسلم دنیا کے قدیم زخموں میں سے ایک ہے جسے کوالالمپور سمٹ میں سنجیدگی سے توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے ملائشیا کے بادشاہ سلطان عبد اللہ سے ملاقات میں، سربراہی اجلاس کے لیے ملائیشیا کے بروقت اقدام پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ، مسلمانوں کے اندرونی مسائل میں عالمی طاقتوں کی مداخلت، علمی اور معاشی پیشرفتوں کا جائزہ لینے کے لیے اس اجلاس کی اہمیت پر زور دیا.

سلطان عبداللہ نے اس اجلاس میں موجودگی کےلیے ایرانی صدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ یہ نشست امت اسلامی کے لئے باعث برکت ہوگی۔

انہوں نے اپنے ملک میں مقیم ایرانی طلبا کے لیے مناسب سہولیات فراہم کرنے پر زور دیا.

ایرانی صدر نے ملائیشیائی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد ایک ٹوئٹر پیغام میں دنیا کے تمام مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے وہ ایک دوسرے کے لئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں.

ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے اس پیغام میں مزید کہا ہے کہ بڑی قوتوں کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلامی ریاستوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے.

انہوں نے کہا کہ مسلمان لوگ سب ایک ہی خاندان کا رکن ہیں تو ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہیے۔

روحانی نے کہا کہ مسلمانوں کے بہت سے مسائل کی وجہ امریکی مداخلت بشمول ایران کے خلاف پابندیاں ہیں.

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کے باوجود ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا اطلاق کیا گیا ہے  اور امریکہ بغیر کسی وجہ کے برجام معاہدے سے دستبردار ہوگیا۔

روحانی نے پابندیوں میں ایرانی عوام کی مزاحمت کی وجہ سے امریکہ کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 5 مہینوں میں انتہائی امریکی دباؤ کے باوجود، ہم اپنی معاشی صورتحال کو بہتربنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم نے اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم معاشی، سا‏‏ئنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے لیے پختہ عزم رکھتے ہیں.

مہاتیر محمد نے کہا کہ ایران کے خلاف غیر قانونی پابندیاں اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے.

ملائشیائی وزیراعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور سمٹ کے موقع پر امریکی ڈالر کے بجائے اسلامی ممالک کے درمیان مالیاتی لین دین کے لئے مخصوص کرنسی متعارف کرانے کے حوالے سے ایرانی صدر کی تجویز سے اتفاق کیا ہے.

٭٭ایران اور ترکی کے صدور کا امت مسلمہ کے مسائل کے حل کیلیے اجتماعی تعاون پر زور

ایران اور ترکی کے صدور نے ملائیشیا سمٹ کے موقع پر مسلم دنیا کے مسائل کے جائزہ لینے کے لئے اسلامی ممالک کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا.

فریقین نے علاقائی امور خاص طور پر  شامی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے شام میں امریکی موجودگی کے تسسل پر زور دیتے ہوئے اس ملک کے تیل کنوں پر قبضہ جمانے پر تشویش کا اظہار کر کے ایران اور ترکی سے شامی حکومت کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا.

انہوں نے شامی ادلب شہر سے دہشت گرد گروہوں کے نکلنے کے لیے شامی حکومت کے ساتھ تعاون پر زور دیا۔

٭٭ ایرانی صدر کی قطر کیخلاف جاری دباو اور معاشی گھیراؤ کی مذمت

روحانی نے کوالالمپور سمٹ کے موقع پر قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے ہم قطر کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اس ملک کے خلاف کسی بھی دبا‎‎ؤ اور محاصرے کی مذمت کریں گے۔

روحانی نے کہا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں مل کر کام کر سکتے ہیں اور موجودہ معاشی صورتحال میں ایک دوسرے کی بہت ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں۔
اس موقع میں قطری امیر نے ایرانی صدر کےساتھ اپنی ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کو اپنے باہمی اور سفارتکاری تعلقات کو بڑھانا ہوگا۔
شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے قطر کے خلاف پابندیوں سے متعلق ایران کے موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی ایران کی حمایتوں کو نہیں بھولیں گے 
انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ایران اور قطر پیداہونے والے ان مشکل حالات پر قابو پا سکتے ہیں۔

٭٭اسلامی ممالک کے تعاون کی توسیع کیلیے ایران کی تجاویز

ڈاکٹر حسن روحانی نے جمعرات کے روز کوالالمپور سمٹ کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئےاسلامی ممالک کے مسائل کے حل کے لیے تین منصوبے کو پیش کردیا۔ 
1۔ اسلامی ممالک کے مابین تکنیکی تعاون کو مالی اعانت فراہم کرنے کے لیے کوالالامپور میں ایک فنڈ کا قیام
2۔ مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے مشترکہ ریسرچ سنٹر کا قیام
3۔ ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں اسلامی ممالک کی مشترکہ مارکیٹ کا قیام

٭٭مہاتیر محمد کا ڈالر کے بجائے مشترکہ کرنسی لانے پر ایرانی صدر کی تجویز سے اتفاق

ملائشیائی وزیراعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور سمٹ کے موقع پر امریکی ڈالر کے بجائے اسلامی ممالک کے درمیان مالیاتی لین دین کے لئے مخصوص کرنسی متعارف کرانے کے حوالے سے ایرانی صدر کی تجویز سے اتفاق کیا ہے.

صدر حسن روحانی نے کوالالمپور 2019 سمٹ کے موقع پر ڈیجیٹل اکانومی سے متعلق اسلامی ممالک کے درمیان مشترکہ مارکیٹ کے قیام اور ڈالر کے بجائے کرنسی کوڈ متعارف کرانے کی تجویز دی تھی جو مہاتیر محمد نے ایرانی صدر کی اس تجویز سے موافقت کی۔

مہاتیر محمد نے کہا کہ ہم ڈالر کے بجائے تجارت کے لیے قومی کرنسی یا مشترکہ کرنسی کا استعمال کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسالگتا ہے جب امریکی ڈالر کا استعمال کریں پابندیاں ہماری معیشت کو نقصان پہنچ سکتی ہیں۔

٭٭ایرانی صدر کا دورہ جاپان

ڈاکٹر حسن روحانی کوالالمپور میں وسیع مشاورت کے بعد جمعہ کے روز ملائیشیا سے ٹوکیو میں روانہ ہوگئے.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 11 =