ایران اور جاپان نے پابندیوں کو ہٹانے کیلئے نئی تجاویز پیش کی ہیں: صدر روحانی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے کہا ہے کہ ان کی جاپانی وزیر اعظم کی حالیہ ملاقات میں دونوں ملکوں نے ایران مخالف پابندیوں کو ہٹانے کیلئے نئی تجاویز پیش کی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حسن روحانی نے دورہ جاپان اور ملائیشیا کے اختتام کے بعد مہرآباد ائیرپورٹ کی آمد کے موقع پر صحافیوں کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا میں منعقدہ 2019 کوالالمپور سمٹ مسلمانوں، اسلامی مفکرین اور اسلامی ممالک کے سربراہوں کو  ایک دوسرے کیساتھ مل کر بیٹھنے کا ایک نیا طریقہ تھا۔ یہ اسلامی ممالک کی ترقی اور تعاون کیلئے مطلوبہ ترقی کے حصول کا ایک فورم تھا۔

صدر روحانی نے کہا کہ  دنیا کے 80 ممالک سے آئے ہوئے 2 ہزار اسلامی مفکرین کو اس اجلاس میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی تھی اور اسلامی جمہوریہ ایران، ترکی اور قطر کے سربراہوں نے بھی ملائیشیایی وزیر اعظم کی باضابطہ دعوت پر اس اجلاس میں حصہ لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کوالالمپور سمٹ، دنیائے اسلام میں ترقی اور توسیع کے حصول کے طریقوں کا جائزہ لینے کیلئے انعقاد کیا گیا۔

صدر روحانی نے کہا کہ اس اجلاس کے موقع پر ایران، ترکی، قطر، ملائشیا کے درمیان سربراہی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام فریقین نے باہمی تعاون پر زور د یا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اجلاس میں باہمی تعاون بالخصوص جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کے شعبوں میں دوسرے ممالک کی دعوت سے اتفاق کیا گیا۔

ایرانی صدر نے ملائشیا کیساتھ تعلقات کی اہمیت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے وزیر اعظم ماہاتیر محمد کے عہدہ سنبھالنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمییان تعلقات میں مزیید اضافہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملائشیا سے باہمی تعاون سے متعلق اچھے فیصلے کیے گئے اور مشترکہ کمیشن کے انعقاد سے بھی اتفاق کیا گیا۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ ملائیشیائی وزیر اعظم نے مستقبل قریب میں دورہ ایران پر دلچسبی کا اظہار کرد یا ہے اور باہمی صنعتی تعاون سے متعلق بھی اچھے فیصلے کیے گئے ہیں جن پر عمل پیرا ہونے کا آغاز کریں گے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے ماہاتیر محمد کیساتھ اقتصادی، مالی اور بینکنگ تعلقات کے شعبوں میں تعیمری مذاکرات کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جاپانی وزیر اعظم کیساتھ حالیہ ملاقات میں باہمی تعلقات سمیت کچھ اور مسائل پر بـھی بات چیت ہوگئی۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ سوائے کچھ ممالک کے تمام ممالک، ایران مخالف امریکی پابندیوں کے مخالف ہیں اور سب بھی جانتے ہیں کہ یہ پابندیاں بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سب پر واضح ہے کہ امریکہ کو ایران کیخلاف پابندیاں لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ان کو اپنے غلط رویے پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔

 ایرانی صدر نے کہا کہ پابندیاں، نہ صرف ایران بلکہ تمام ممالک کو نقصان پہنچیں گی اور امریکہ نے اس حوالے سے غلط فیصلہ اٹھایا ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک اور جاپان بھی ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو ہٹایا جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں کچھ تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں اوران کیساتھ باہمی مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ حکومت جاپان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایرانی کے تجویز کردہ ہرمز امن منصوبے کی حمایت کرے گی اور خطی سلامتی سے متعلق امریکی منصوبہ بندیوں میں شریک نہیں ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جاپان نے خطے میں ایک جاسوس بحری جہاز بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اس بحری جہاز کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں نہیں بلکہ بحیرہ عمان اور باب المندب میں بھیجے گا اور انہوں نے جو منصوبہ بندی اس حوالے سے کی ہے اس پر بھی روشنی ڈالی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 8 =