یلدا کا تہوار، ایرانیوں کے اتحاد اور یکجہتی کا ایک مظہر

تہران، ارنا - یلدا اسلامی جمہوریہ ایران میں سب سے زیادہ جوش و خروش سے منائے جانے والا تاریخی تہوار ہے جو سال کی سب سے لمبی رات کو منایا جاتا ہے.

ایرانی عوام ہرسال موسم خزان کی آخری رات کو شب یلدا کا تہوار مناتے ہیں.یلدا تہوار کا سب سے اہم مقصد خاندانوں اور دوستی کو اہمیت دینا ہے.
ایرانی کیلینڈر کے مطابق 30 آذر یا 21 دسمبر کو ایرانی عوام سردیوں کی آمد پر یلدا نامی تہوار مناتے ہیں جس دن کو تاریکیوں کے مقابلے میں روشنی کی فتح کا تہوار قرار دیا جاتا ہے.


ایران کے علاوہ وسطی ایشیائی ممالک بشمول افغانستان، پاکستان، ازبکستان، ترکمانستان، آذربائیجان اور آرمینیا میں بسنے والے لوگ موسوم سرما کی سب سے لمبی رات 21 دسمبر کو مناتے ہیں.
دنیا بھر میں بسنے والے ایرانی اور دوسری قومیں شب یلدا بہت جوش و جذبے سے مناتے ہیں جس کی جڑیں ہمیں فارسی تہذیب میں نظر آتی ہیں.


اس موقع پر خاندان کے سب ہی افراد، گھرانے کے سب سے بزرگ شخص جیسے دادا، دادی، یا نانا، نانی کے گھر جمع ہوتے ہیں اور رات کا بیشتر حصہ بات چیت، ماضی کی اچھی یادوں کے قصوں اور بیت بازی وغیرہ میں بسر کرتے ہیں۔
ایران میں بزرگوں اور خاندانوں کے بڑوں کو بہت عزت دی جاتی ہیں کیونکہ ایرانی تہذیب میں عمر کو عقل کے ساتھ ملایا جاتا ہے.


یلدا تہوار پہ خاندانوں کے بڑے میزبان کے فرائض انجام دیتے ہیں اسی لئے بچے اور نوجوان اس رات کو منانے اپنے بڑوں کے گھروں میں جاتے ہیں.
اس موقع پر خاندان کے بزرگ گلستان سعدی، دیوان حافظ اور فردوسی کے شاہنامہ سے کہانیاں پڑھ کر سناتے ہیں.
اس رسم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ رشتہ دارجب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو صلح رحم کرنے کا موقع ملتا ہے.
ایرانی خاندان یلدا کی رات میں ایک مزے دار کھانا، ہر قسم کے پھل اور زیادہ عام طور پر تربوز اور انار، خشک اور گری دار میوہ جات، پستہ، اخروٹ اور موسمی پھل کھاتے ہیں.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@