مسلمانوں کو امریکی ڈالر کے غلبے سے چھٹکارے کیلئے موثر طریقہ تلاش کرنا ہوگا: ایرانی صدر

تہران، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کوالالمپور کی اسلامی سمٹ میں کہا ہے کہ عالم اسلام کو امریکی ڈالر کے غلبے اور اس کے مسلط کردہ مالیاتی نظام سے نجات کے لئے موثر حکمت عملی اپنانا ہوگی.

یہ بات ڈاکٹر حسن روحانی نے آج بروز جمعرات کوالالمپور سمٹ کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالم اسلام کو اندرونی اور بیرونی سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے.
انہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح میں عالم اسلام کے درپیش نئے چیلنجوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلم کو امریکی مالیاتی نظام اور ڈالر کی اجارہ داری کے خاتمے کے لیے ایک سنجیدہ اقدام اٹھانا ہوگا۔
صدر روحانی نے کہا کہ جہان اسلام کو چار بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے جو پہلا ثقافتی دوسرا سیکورٹی تیسرا پسماندگی اور چوتھا اقتصادی چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی اور اسلامی ہویت کو مجروح کرنے، نوجوان نسل کو اپنی پہچان اور ہویت سے دور کرنے اور اسلامی مذہب پر غیر ملکی ثقافتوں کے غلبے کو عالم اسلام کے لئے سب سے سنگین خطرہ قرار دیا۔
روحانی نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے تمام امت مسلمہ کو بڑے سیکورٹی چیلنجوں اور سنگین خطرات کا سامنا ہے اور شام اور یمن میں جنگ اور عراق، لبنان، لیبیا اور افغانستان میں افراتفری اور بد امنی، 
اندرونی انتہا پسندی اور غیر ملکی مداخلت کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حاکمیت کی کمزوری، غربت، بے روزگاری، بدعنوانی، تشدد اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی جیسے مسائل نے عالم اسلام کے قومی استحکام اور خودمختاری کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک اپنی قومی اور اسلامی صلاحیتوں کے استعمال اور اندرونی وسائل پر انحصار کرنے کے ذریعے تمام ان مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔
ایرانی صدر نے جمہوریت  پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگ طاقت کا سب سے اہم ذریعہ ہیں۔
انہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی کو طاقت اور ترقی کی کلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے اب اسلامی ممالک اپنی سائنسی اور تکنیکی ضروریات کی فراہمی کے لیے غیر مسلم ممالک کا محتاج ہیں۔ 
ڈاکٹر روحانی نے اسلامی ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور باہمی روابط کے فروع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تکنیکی تعلقات کا فروغ عالم اسلام کو بین الاقوامی میدان میں ایک بڑے بلاک میں بدل کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تین بڑے چیلنجوں( دہشتگردی، جنگ اور پابندیاں) کا شکار ہے جو ہم نے اپنے کامیاب تجربات کے ساتھ ان سازشوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین نے مزاحمت کا راستہ چن لیا ہے اور اس راستے میں اسے مسلم اقوام کی حمایت حاصل ہے اور ہمیں بھی اس مسئلے کو نظرانداز نہیں کرنا ہوگا
روحانی نے کہا کہ مشرق وسطی میں متعدد بحران خصوصا یمن، افغانستان، شام، لیبیا اور لبنان میں موجودہ مسائل غیر ذمہ دارانہ اور تفرقہ انگیز پالیسیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔
انہوں نے اسلامی ممالک کے مسائل کے حل کے لیے تین منصوبے کو پیش کردیا۔ 
1۔ اسلامی ممالک کے مابین تکنیکی تعاون کو مالی اعانت فراہم کرنے کے لیے کوالالامپور میں ایک فنڈ کا قیام
2۔ مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے مشترکہ ریسرچ سنٹر کا قیام
3۔ ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں اسلامی ممالک کی مشترکہ مارکیٹ کا قیام
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 5 =