دہشتگردی اور انتہاپسندی خطے کیلئے بڑا خطرہ ہیں: ایڈمیرل شمخانی

تہران، ارنا – اعلی ایرانی قومی سلامتی کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ دہشتگردی، انتہاپسندی اور اجنبیوں کی موجودگی علاقے کے اصلی ترین خطرات ہیں.

یہ بات ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر ایڈمیرل "علی شمخانی" نے بدھ کے روز تہران میں افغانستان پر دوسری علاقائی سلامتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے علاوہ غیرعلاقائی طاقتوں کی موجودگی اس خطے کے اصلی خطرات ہیں جو مشرق وسطی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی وجوہات کا ایک اہم حصہ ہے اور اس میں شدت آچکی ہے۔
شمخانی نے منعقد ہونے والے اجلاس کے موضوع افغانستان کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 40 سال سے اب تک یہ ملک اجنبیوں کا قبضہ، اندرونی اور دہشتگردوں کے خلاف جنگوں کا شکار ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اور عراق میں داعش دہشتگردوں کی شکست کے بعد ایک اہم سیکورٹی مسئلہ شام اور عراق سے افغانستان میں اس دہشتگردوں کی منتقلی ہے جس کا مقصد اس ملک اور دوسرے پڑوسیوں کے خلاف سازشوں کی منصوبہ بندی ہے لہذا اس اہم چیلنجز پر قابو پانا ہماری اہم ذمہ داری ہے.
انہوں ںے مزید کہا کہ ہم اس نشست میں افغانستان کے بحران پر تبادلہ خیال کرنا، اجتماعی سلامتی کے تعاون کو بڑھانے کے عملی حل کی دستیابی، ان چیلنجوں جو افغانستان، ہمسایہ اور علاقائی ممالک کی سلامتی پر براہ راست اثر پڑتا ہے، سے مقابلے کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں.
تفصیلات کے مطابق، دوسری علاقائی سلامتی کانفرنس کا بدھ کے روز ایرانی دارالحکومت تہران کی میزبانی میں انعقاد کیا گیا جس میں ایرانی حکام کے علاوہ بھارت، افغانستان، روس، چین، تاجکستان اور ازبکستان کی قومی سلامتی کے مشیروں نے شرکت کی.
اس ایک روزہ نشست میں افغانستان اور دہشتگردی کی مختلف قسم سے نمٹنے پر تبادلہ خیال کیا گیا.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 6 =