کوالالمپور سمٹ؛ دنیائے اسلام میں نئی حکمت عملی بروئے کار لانے کی تجویز

تہران، ارنا-  کوالالمپور سربراہی اجلاس مختلف ایشیائی میڈیا میں مسلم دنیا کے ایک اہم ترین واقعے کی حیثیت سے جھلک رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس اقدام کو مسلم دنیا کے معاملات اٹھانے اور ان سے نمٹنے کیلئے نئی حکمت عملیوں اور نظریات ڈھونڈنے کیلئے ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کی پیش کردہ تجویز قرار دیا ہے۔

اس سمٹ میں ملائیشیا، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، ایران اور قطر کے رہنماؤں سمیت دنیا بھر کے 400 سے زائد مسلمان دانشوروں اور اسکالرز کو اکٹھا کیا جاتا ہے تا کہ وہ دنیائے اسلام کے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کریں۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت ڈاکٹر"حسن روحانی" بھی آج بروز منگل کو ملائشیائی وزیر اعظم مہاتیر محمد کی باضابطہ دعوت پر کوالامپور سمٹ میں شرکت کرنے کیلئے ملائیشیا روانہ ہوگئے۔

امیر قطر شیخ "تمیم حمد آل ثانی"، ترک صدر "رجب طیب اردگان"، پاکستان کے وزیر اعظم "عمران خان" کو بھی کوالامپور سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

 2019 کوالالمپور سربراہی اجلاس 18 سے 21 دسمبر تک دارالحکومت سنگاپور میں انعقاد کیا جائے گا جس میں سات مختلف شعبوں بشمول ترقی اور گورننس، یکجہتی اور اچھی نظام حکومت؛ ثقافت اور شناخت، انصاف اور آزادی؛ امن، سلامتی اور دفاع، تجارت اور سرمایہ کاری اور انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے انتظام کے شعبوں میں مسلمانوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

چار روزہ سربراہی اجلاس کے مقاصد، اسلامی تہذیب کو زندہ کرنے، مسلم دنیا کے مسائل کیلئے نئے اور موثر حل تلاش کرنے، مسلم اقوام کی صورتحال میں بہتری لانے کیلئے میں کردار ادا کرنے اور اسلامی رہنماؤں، دانشوروں، سائنسدانوں اور مفکرین کے درمیان عالمی نٹ ورکس بنانے کے ہیں۔

2019 کولالمپور سربراہی اجلاس کے سیکرٹری نے کہا ہے کہ اب تک دنیا کے 52 سربراہوں، سیاسی سفارتکاروں اور سائنسدانوں نے اس اجلاس میں حصہ لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ایشیاء ٹائم نے کہا ہے کہ سربراہی اجلاس میں شریک تمام رہنماء، سیاسی اسلام کے حامی ہیں اور مسلم دنیا کو بہت سارے مسائل کا شکار ہے اور کوالالمپور سمٹ، جو مہاتیر محمد کی تجویز ہے، عالم اسلام کے چیلنجوں کو پیش کرنے کی کوشش میں ہے۔

ایشیاء ٹائم کے مطابق، اس اجلاس میں سعودی عرب کا کوئی نمائندہ حصہ نہیں لے گا۔

ملائیشیا کے وزیر برائے مذہبی امور "یوسف مجاہد روا" نے کہا ہے کہ کہ کوالامپور سمٹ، اسلام کے حقیقی پیغام یعنی امن کو پہنچانے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم کی فراہمی کرے گا جس میں شریک فریقین، انتہا پسندی اور اسلامو فوبیا سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستانی نیوز ایجنسی گلوبال ویلج اسپیس کے مطابق، کوالامپور سربراہی کانفرنس، اسلامی دنیا کے مسائل کے بارے میں نئی حکمت عملی اور موثر حل پیش کرنے  کا پیش خیمہ بن سکتا ہے اور آئندہ اسلامی کانفرنس میں اس کے نتائج پر تبادلہ خیال کرنے سمیت ان کا تعاقب کیا جائے گا۔

ملائشیائی اخبار مالائی میل نے اپنی کوالامپورسمٹ سے متعلق اپنی رپورٹ میں اس بین الاقوامی پروگرام کو ایک فورم کے طور پر مسلم دنیا کے معاملات پر توجہ دینے اور ان کے لیئے نئے حل تلاش کرنے کا ایک پلیٹ فارم قرار دے دیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 2 =