فردو میں تکنیکی مشکل روس کے تعاون کی معطلی کی وجہ ہے: ایران

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ فردو جوہری تنصیبات میں تکنیکی مشکل روس کے تعاون کی معطلی کی وجہ ہے اور دونوں ممالک کے تکنیکی ماہر اس مسئلے کو جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ بات "سید عباس موسوی" نے پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ملکی اور غیرملکی میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے صدر روحانی کے دورے ٹوکیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور جاپان کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں، جاپان ایک اہم مشرقی ایشیائی اور ایران ایک اہم مغربی ایشیائی ممالک ہیں۔
موسوی نے قیدیوں کے تبادلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تین ہزار سے کم ایرانی شہری مختلف جرائم پر دوسرے ممالک کے جیلوں میں گرفتار ہیں اور دوسرے ممالک کے شہری ہمارے جیلوں میں بھی ہیں لہذا ہم انسانی مسائل کی وجہ سے ان کے تبادلے کے لئے تیار ہیں۔
انہوں نے ایرانی اور امریکی قیدیوں کے حوالے سے کہا کہ ہم تبادلے کے لئے تیار ہیں، گیند امریکی پچ پر ہے، ایران میں امریکی قیدیوں کو سیکیورٹی اور جاسوسی کے جرائم کی وجہ سے گرفتار کر لئے گئے ہیں اور امریکہ میں ہمارے کچھ شہری جنہیں یرغمال بنایا گیا ہے غلط الزامات کے تحت جیل میں ہیں۔
انہوں نے مذاکرات کے لئے ایرانی اور سعودی وفدوں کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ تنازعات کی کمی کے لئے کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں مگر بعض اوقات سعودی حکام کے بے بنیاد بیانات ان کوششوں کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم جوہری وعدوں میں کمی لانے کے پانچواں مرحلے کو جائزہ لے رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ تا وقت باقی ہے یورپ اپنے وعدوں کو پورا اترنا ہوگا۔
انہوں نے روس کی ایران کو پانچ ارب ڈالر مالی اعانت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے مالی اعانت کی ضرورت ہے، ایران اور روس کے درمیان مشترکہ منصوبے کی مالی اعانت کو روس فراہم کرے گا لہذا یہ پیسہ قرضہ نہیں بلکہ مالی اعانت ہے۔
موسوی نے عراق کی تبدیلیوں کے حوالے سے کہا کہ ہم عراق میں بدامنی واقعات پر پریشان ہیں اور عراق ایک خودمختار ملک ہے اور ہم اس کی اندرونی مسائل پر مداخلت نہیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عراقی قوم، قبائل، حکومت اور گروہوں کی ہوشیاری کے ساتھ اس میں سلامتی قائم ہوگی اور ایران اس سلسلے میں باہمی تعاون کے لئے تیار ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 2 =