ایران مخالف امریکی پابندیاں ایک طرح کی بین الاقوامی آمریت ہیں: ملائشیائی وزیر اعظم

تہران، ارنا- ملائیشیا کے وزیراعظم نے ایران کیخلاف لگائے ہوئے امریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی پابندیاں اندورنی آمریت سے بھی بدتر ہیں اور اسے کسی طرح کی بین الاقوامی آمریت سمجھا جاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "مہاتیر محمد" نے قطر میں منعقدہ 2019 دوحہ فورم کے اجلاس کے موقع پر الجزیرہ ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کیخلاف امریکی پابندیوں کے بعد ملائشیا ایک بہت بڑی مارکیٹ سے بے نصیب ہوگیا۔

مہاتیر محمد نے کہا کہ ہم پابندیوں کے ذریعے دوسرے ممالک کو مخصوص نظریات اپنانے اور ان کو حکومت کی تبدیلی پر مجبور کرنے کا یقین نہیں رکھتے ہیں۔

انہوں نے ایران مخالف امریکی پابندیوں اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں عائد کرنے سے نہ صرف کسی خاص ملک کو تکلیف ہوگی بلکہ اس کے تمام تجارتی شراکت دار بھی معاشی طور پر بھی پریشان ہوں گے۔

ملائشیا کے وزیر اعظم نے عالمی معیشت کی حالت اور اس کے باہم منسک ہونے کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ جب کثیرالجہتی کی بات کی جاتی ہے تو امریکہ دنیا کو غلط سمت کی طرف لے جارہا ہے۔

 انہوں نے امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ کے بارے میں کہا کہ تجارتی جنگیں کسی بھی مسئلے کو حل نہیں کرتی ہیں وہ صرف ان لوگوں کے درمیان دشمنی کا باعث بنتی ہیں جن کو جنگ سے سر و کار نہیں۔

مہاتیر محمد نے مزید کہا کہ یہاں سیاست پر زیادہ توجہ دی گئی ہے حالانکہ اگر آپ معاشی اصولوں پر عمل پیرا ہوتے تو ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی کوشش سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے اس مسئلے کو حل کرنے کے قابل ہوسکتے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 15 =