روحانی کا دورہ جاپان، ایران امریکہ تعلقات بحالی میں مدد کرسکتا ہے: امریکی تجزیہ کار

نیویارک، ارنا – امریکی مڈل ایسٹ فاؤنڈیشن تھنک ٹینک کے ماہر نے بتایا ہے کہ ایران اور جاپان کے تعلقات گہرے اور تاریخی ہیں اگر امریکی صدر حقیقت پسند بن جائے اور ایران مخالف پابندیوں کو دور کرے تو صدر روحانی کا دورہ جاپان تہران واشنگٹن سیاسی تعطل کا خاتمہ کرسکتا ہے۔

یہ بات "جورجو کافییرو" نے ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہو‏ئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے روحانی کے دورہ ٹوکیو کو دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے جوہری معاہدہ ، ایران، امریکہ تعلقات اور ایران سعودی تعلقات سمیت کچھ انتہائی پیچیدہ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
کافییرو نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ٹرمپ کی حکومت ایران مخالف پابندیوں پر نظرثانی نہیں کرے تو امید نہیں کی جانی چاہئے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں تنازعات کم ہوجائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خوش قسمتی سے ٹرمپ کی انتظامیہ ، متحدہ عرب امارات اور عرب حکام کی ایران کے ساتھ بیان بازی میں کچھ تبدیلیاں دیکھی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاپان طویل عرصے سے نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا میں فعال کردار ادا کرنے کے لئے تیاری کر رہا ہے اور جاپانی سیاستدانوں کا خیال ہے کہ ان کی مضبوط معیشت کو ملک کو بین الاقوامی میدان میں ایک فعال کھلاڑی بنانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ جاپان نے ایران اور امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیا ہے لہذا وہ دونوں ممالک کے درمیان ثالث بن سکتا ہے۔
امریکی ماہر نے کہا کہ ٹوکیو خلیج فارس کونسل کے ممبر ممالک اور عراق کے ساتھ اپنے تعلقات کو بروئے کار لاکر مسائل کے حل کے لئے اقدامات کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ٹرمپ کے زیادہ سے زیادہ دباو کی پالیسی سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور ایران نے اپنی علاقائی پالیسیاں اس انداز میں نہیں بدلا جس طرح امریکہ چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے سے دور ہورہا ہے اور ٹرمپ کی حکومت اس موضوع پر فکرمند ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی اور متحدہ عرب امارات کے رہنما سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" پالیسی ناکام ہوچکی ہے اور در حقیقت ان کے لئے خطرہ لاحق جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 16 =