اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات میں ترقی پذیر ملکوں کی قلیل نمائندگی، ایران کی تشویش

لندن، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات اور جرائم میں ترقی پذیر ممالک کی قلیل نمائندگی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے.

یہ بات ویانا میں قائم عالمی اداروں میں تعینات ایران کے مستقل مندوب "کاظم غریب آبادی" نے اقوام متحدہ کے دفتر منشیات و جرائم کے مشترکہ کمیشن کی نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ایرانی مندوب نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسداد منشیات اور جرائم کے ادارے میں جغرافیائی بنیاد پر برابری کی سطح پر ملکوں کو نمایندگی ملنی چاہئے.
انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو تکنیکی مدد کی فراہمی کے لئے اس دفتر کے مستحکم ، متوقع اور مناسب بجٹ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
غریب آبادی نے بین الاقوامی منشیات کنٹرول بورڈ کے آنے والے مالی چیلینجز اور بجٹ کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی مکمل مالی اور تکنیکی آزادی کو یقینی بنانے اور متعلقہ معاہدوں کے تحت اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے اس پر ضروری مالی اور انتظامی کو اپنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بورڈ کو ملنے والی کسی بھی رضاکارانہ امداد کو مکمل شفاف اور اس کے قانونی مشن کے مطابق ہونا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممبر ممالک توقع کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم علاقائی اور عالمی سطح پر کسی بھی نئے پروگراموں اور اقدامات کے تعارف اور اس پر عمل درآمد سے قبل ان سے مشورہ کریں۔
ایرانی مندوب نے عملے کے درمیان جغرافیائی عدم توازن پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے عملے کے مابین ترقی پذیر ممالک کے نمائندوں کی موجودگی بڑھانے کے لئے دفتر کی موثر کوششوں کا مشاہدہ نہیں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اس سلسلے میں عملے کا جغرافیائی توازن ہر سطح پر بڑھانے کے لئے جامع منصوبہ اور متعلقہ نتائج کو دونوں کمیشنوں کو پیش کریں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 14 =