اقوام متحدہ نے امریکی پابندیوں کو قرارداد 2231 کے برعکس قرار دیا

نیو یارک، ارنا - سربراہ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں جوہری معاہدے سے منسلک سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے برعکس ہیں.

یہ بات آنٹونیو گوتریش نے بدھ کے روز سلامتی کونسل میں پیش کرنے والی اپنی آٹھویں رپورٹ میں کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق، تمام ممالک ایران سے تجارت کے لئے آزاد ہیں تاہم امریکی پابندیاں اس کے برعکس ہیں.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایرانی مسئلے پر جوہری معاہدہ  ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔
گوتریش نے کہا کہ جوہری معاہدہ اسلامی جمہوریہ ایران، چین، فرانس، جرمنی، روس،   برطانیہ، یورپی یونین اور امریکہ کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد ایرانی پرامن ایٹمی منصوبے جو عالمی جوہری ادارے اسے تصدیق کرتا ہے، کا جایزہ لینا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس عالمی سمجھوتے کا اہم حصہ ایران مخالف پابندیوں کا خاتمہ اور اس ملک کو آزادانہ تجارتی اور اقتصادی لیں دیں کی اجازت دینا تھا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2016 سے 2019 تک عالمی جوہری ادارے نے 15 بار کے لئے ایران کی دیانتداری کی تصدیق کی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس معاہدے سے امریکی علیحدگی پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کے مئی مہینے میں ایران مخالف نئی پابندیاں عائد کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس اقدامات سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی تھے جس کے نتیجے میں ایران کے وعدوں پر قائم نہ رہنا ممکن ہے۔
انہوں نے ایران کے جوہری وعدوں کی کمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی علیحدگی اور دوسرے فریقین کی کمزوری کی وجہ سے یہ ملک اپنے وعدوں پر کمی لا رہا ہے مگر خوش قسمتی ان کے تمام اقدامات قابل واپسی ہے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ تجارتی لیں دیں کے لئے یورپ کے مالیاتی نظام انسٹیکس پر چھ ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 3 =