ایران کا ہمسایہ ہوکر امریکی سازشوں کا ساتھ دینا سمجھ سے بالاتر ہے: ترجمان

تہران، ارنا - ترجمان ایرانی دفترخارجہ نے خلیج فارس تعاون کونسل کے حالیہ سربراہی اجلاس کے اختتامی بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ ایران کا ہمسایہ ہو کر امریکہ کی معاشی دہشتگردی کا ساتھ دینا کھلا تضاد ہے.

سید عباس موسوی نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا ہے کہ پی جی سی سی بیان کی کوئی حیثیت نہیں اسی لئے اس کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے.
انہوں نے بیان میں شامل ممالک کی جانب سے ایرانی قوم کے خلاف امریکہ کی معاشی دہشتگردی کا ساتھ دینے کی مذمت کی ہے.
انہوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں خلیج فارس تعاون کونسل کے 40ویں سربراہی اجلاس کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بیان میں بے بنیاد الزامات کی تکرار کونسل کے بعض اراکین کے سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے جنہوں نے گزشتہ دہائیوں کے دوران کثیر الجہتی تعاون کی ترقی کو روکنے کے لئے پوری کوشش کی ہے۔
موسوی نے مزید کہا کہ کئی دہائیوں سے ایران ذمہ دارانہ طور پر کردار ادا کررہا ہے. عدم جارحیت کے معاہدے، ریجنل ڈائلاگ فورم اور ہرمز امن منصوبے جیسی تجاویز کی پیشکش ایران کے پُرامن اقدامات کی مثال ہیں.
انہوں نے کہا کہ ایرانی تینوں جزائر ابوموسی، چھوٹے تنب اور بڑے تنب ہمیشہ سے ایران کا حصہ تھے اور رہیں گے لہذا اس پر کسی بھی دعوے کو ملکی اندرونی مسائل کی مداخلت کا مترداف ہے اور ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں.
ایرانی ترجمان نے کہا کہ ہم نے قومی حکمرانی اور علاقائی سالمیت کی مبنی پر اس جزیروں میں اقدامات اٹھائے ہیں اور ان مداخلت پسندانہ مواقف کی تکرار کسی بھی طرح سے مکمل طور پر مسترد کردیا گیا ہے اور موجودہ قانونی اور تاریخی حقائق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے جوہری وعدوں پر اس کونسل کے ردعمل کو تاریخی طنز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام ممالک جنہوں نے جوہری معاہدے کی ناکامی کے لئے بھرپور کوشش کی فی الحال ایرانی قانونی اقدامات پر احتجاج کیا ہے.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 8 =