ایران نے حالیہ بدامنی واقعات پر الزامات سے بھری اقوام متحدہ رپورٹ کا جواب دیا

تہران، ارنا - ایران میں حالیہ بدامنی کے واقعات پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے من گھڑت اور غلط اطلاعات کی بنیاد پر رپورٹ کی شائع ہے جسے ایران کی انسانی حقوق کونسل نے مسترد کرتے ہوئے اس کا جواب دے دیا.

ایران کی قومی انسانی حقوق کونسل کے جواب میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ غلط اطلاعات اور بے بنیاد الزامات پر مبنی ہے جو نہایت افسوسناک بات ہے.
اقوام متحدہ کے ہائی کمیشنر برائے انسانی حقوق نے 6 دسمبر کو شائع ہونے والے اپنے بیان میں ایرانی حکام پر حالیہ بدامنی واقعات میں شفافیت کے فقدان کے الزام لگا دیا جبکہ واقعات کے آغاز کے بعد سے ہی ایرانی عدلیہ، سیکورٹی ادارے اور میڈیا کے ذریعہ سب سے زیادہ وسیع معلومات فراہم کی گئی ہیں اور یہ دوسرے ممالک جیسے فرانس ، برطانیہ اور امریکہ کے مقابلے میں انتہائی درست ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران جو مغربی ایشیاء کی سب سے اہم جمہوریت ہے، میں عوام کو بعض حکومتی پالیسیوں سے عدم اطمینان قرار دینا غیر متوقع نہیں ہے اور اس ملک کو امریکی یکطرفہ معاشی پابندیوں اور اس کے اتحادیوں کی سرپرستی میں وسیع پیمانے پر معاشی دہشت گردی آپریشن کا شکار ہے.
یہ حیرت کی بات ہے کہ ہائی کمشنر اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کس طرح عوام کی زندگی کے حساس نیٹ ورک کی تباہی اور بے گناہ شہریوں کے وحشیانہ قتل کے لئے درجنوں تربیت یافتہ اور منظم دہشت گردوں کو بھیجنے کو نظرانداز کرتے ہیں؟
ایرانی انسانی حقوق کمیشن نے مندرجہ ذیل بیانات دیئے:
1: اس اہم بین الاقوامی تنظیم کو عوام کے کھو دینے والے اعتماد کی بحالی ، دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو مشہور کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانا ہوگا.
2: خطے میں ہونے والے فسادات اور خونریزی میں امریکہ، اس کے یورپی اور صہیونی اتحادیوں کے کردار کو واضح کریں ، تاکہ "نیا داعش" قائم کرنے کو روکا جاسکے۔
3: اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولی قانون کے تحت ہتھیاروں کے استعمال کے بغیر مظاہرے کرنا عوام کا قانونی حق ہے ، اس طرح دہشت گردی اور بدامنی واقعات اور پرامن احتجاج کے درمیان واضح فرق ہے.
آخر میں ، بیان میں اصرار کیا گیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر حالیہ ہنگاموں کے بعد ، پرامن مظاہرین کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور صرف وہی لوگوں ںے جو قانونی حقوق کی خلاف ورزی کی ہیں حراست میں لئے گئے، جیسا کہ سپریم لیڈر نے حکم دیا کہ حالیہ فسادات میں ملوث ہونے والے افراد کے ساتھ "اسلامی شفقت" کا سلوک کیا گیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 5 =