سعودی تیل تنصیبات پر ایران ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں: اقوام متحدہ

تہران، ارنا - اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے تیل تنصیبات پر حالیہ حملوں میں ایران کے مبینہ ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا.

بلومبرگ نیوز ایجنسی کے مطابق، اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے آرامکو تیل تنصیبات پر فضائی حملوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ممکنہ کردار کے جائزے کے لئے سعودی عرب کا دورہ کیا.
انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ وہ ابھی بھی آرامکو کے حملوں کے سلسلے میں امریکہ اور سعودی عرب کے ایران مخالف دعووں کو تصدیق نہیں کرسکتے ہیں.
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل "آنٹونیو گوتریش" نے سلامتی کونسل میں اپنی پیش کرنے والی رپورٹ میں اعلان کردیا کہ ہم اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں کہ آرامکو کے فضائی حملوں میں استعمال ہونے والے کروز میزائل اور بغیر پائلٹ ڈرون ایران کے متعلق ہیں.
اس رپورٹ کے مطابق، معائنہ کاروں کو مئی مہینے میں بین الاقوامی ہوائی اڈے "ابہا" اور ستمبر میں آرامکو تیل تنصیبات پر حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے آثار مل گئے تھے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ستمبر میں سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو کی دو آئل فیلڈز پر ڈرون حملے ہوئے جس کے نتیجے میں تیل کی پیداوار نصف رہ گئی ہے تا ہم ان حملوں کا الزام واشنگٹن اور ریاض نے ایران پر عائد کیا ہے.
واضح رہے کہ یمن کے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود امریکہ بضد ہے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے کئے گئے ہیں تاہم اب ایران نے بھی ان حملے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی الزامات کی تردید کردی ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 9 =