اعلی ایرانی سفارتکار نے امریکہ کیساتھ قیدیوں کے حالیہ تبادلے پر روشنی ڈالی

تہران، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ کے معاون اور ڈائریکٹر جنرل امریکی امور نے امریکہ میں قید ایرانی سائنسدان اور جاسوسی کے جرم پر گرفتار امریکی شہری کے تبادلے کے حوالے بعض معاملات پر روشنی ڈالی.

"محسن بہاروند" نے ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے امریکی جیل میں قید ایرانی شہریوں کے مسئلے کو ایک کثیر الجہتی مسئلہ قرار دے دیا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کے مختلف پہلووں بشمول عدالتی، قونصلر، سفارتی، سیکورٹی اور انسانہ دوستانہ امور کے ہیں اور چونکہ ایک پیچیدہ اور وقت طلب کام ہے اس حوالے سے مناسب فیصلہ اٹھائے جانے کیلئے مزید ہم آہنگی سے کام کرنا ہوگا۔

بہاروند نے قیدیوں کے تبادلہ کے عمل سے متعلق کہا کہ دونوں فریقین یعنی ایران اور امریکہ، گزشتہ چند مہینوں سے پہلے ایران میں قائم سوئٹزرلینڈ کا سفارتخانہ جو امریکی مفادات کے محافظ ہے کے ذریعے ایک دوسرے کیساتھ رابطے میں تھے۔

ایرانی محکمہ خارجہ میں تعینات دائریکٹر جنرل برائے امریکی امور نے کہا کہ سوئس سفارتخانے نے اس حوالے سے بغیر جانبدارانہ رویہ اپنانے کے انتہائی تعیمری کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر سلیمانی سے امریکی ناراضگی کی وجہ اسلامی جمہوریہ کی سائنسی پیشرفت اور دنیا میں ایران کی اچھی سائنسی پوزیشن ہے۔

انہوں نے قیدیوں کے تبادلہ سے متعلق کیے گئے مذاکرات سے متعلق کہا کہ امریکیوں کی خواست براہ راست مذاکرات تھی حالانکہ ہمارا براہ راست مذاکرات کرنے کیلئے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ بالواسطہ مذاکرات کے بعد جب ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ دونوں قیدیوں کے تبادلہ کا امکان ہے تب ہمیں پتہ چلا کہ امریکہ نے ایک خصوصی طیارے لے کر کے ایران میں قید اپنے شہری کو لے جانا چاہتا ہے لہذا ہم نے بھی ایرانی شہری کیلئے ایسی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا اور ان کو ایرانی حکومت کے خصوصی طیارے کے ذریعے وطن واپس لائیں۔

بہاروند نے مزید کہا کہ امریکی حکومت میں ایرانی امور کے مخصوص نمائندہ "برایان ہوک" اور انہوں نے دونوں ملکوں کے وفدوں کی قیادت میں ایک غیر جانبدارعلاقے میں داخل ہوگئے جس کو سوئٹرزلینڈ نے تعین کیا تھا۔

ایرانی محکمہ خارجہ میں تعینات دائریکٹر جنرل برائے امریکی امور نے کہا کہ اس غیر جانبدار زون میں بغیر کسی گفت و شنید کے قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلہ کےعمل کا سلسلہ جاری رکھنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ  ہم اس حوالے سے رہنما خطوط کے مطابق کام کر رہے ہیں اور اس وقت محکمہ خارجہ کے پاس کوئی رہنما خطوط موجود نہیں ہے۔

بہاروند نے امریکی جیلوں میں قید ایرانی شہریوں کی تعداد سے متعلق کہا کہ ان کی تعداد تقریبا 20 کی ہیں لیکن ان کی تعداد سے متعلق یقیین سے بات نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ حتمی نہیں ہے۔

انہوں نے ایران میں گرفتار امریکی شہریوں کی تعداد کے بارے میں کہا کہ ایران میں ایک امریکی ہے جن کا نجی فریادی ہے اور قریب پانچ ایسے دوہری شہری ہیں جو امریکہ ان کو واپس لانے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے قیدیوں کے اگلے تبادلے کیلئے طے شدہ تاریخ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی دوسرے قیدیوں کے بارے میں بات کرنے کیلئے محکمہ خارجہ کو کوئی ایجنڈا نہیں دیا گیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 6 =