9 دسمبر، 2019 6:31 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83587975
1 Persons
افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں: ظریف

تہران، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے بیرونی فورسز کی موجودگی کو علاقائی امن و استحکام کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے.

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد  ظریف" نے ترکی میں افغانستان سے متعلق منعقدہ "ہارٹ آف ایشیا استنبول عمل" کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے افغانستان میں یکجہتی اور اتحاد کے تحفظ پر زور دیا۔

انہوں نے اپنے افغان بھائیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افغانستان میں یکجہتی اور اتحاد کے تحفظ سمیت مللک کے آئینی اصولوں کے عمل درآمد پر خصوصی توجہ دیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے ذمہ دار انخلا کیلئے ٹائم ٹیبل کے اعلان سے افغان حکومت کیجانب سے قومی سطح پر امن اور مفاہمت کےعمل کو قائم کرنے میں مناسب فضا کی فراہمی ہوجائے گی۔

ظریف نے کہا کہ ہم افغان حکومت کی قیادت میں افغانستان کے تمام سیاسی گروہوں اور دھڑوں کی شرکت کیساتھ افغان امن عمل اور بین الافغانی مذاکرات کے انعقاد کی حمایت کریں گے۔

انہوں نے افغانستان میں قیام امن کی فراہمی پر اقوام متحدہ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ممالک کے خیالات کو مدنظر رکھنا اوران کے جائز خدشات پر توجہ دینا، امن معاہدے کی مضبوط علاقائی حمایت کا باعث بنے گا۔

ظریف نے مزید کہا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اقوام متحدہ افغانستان کے سیاسی ڈھروں اور افغان حکومت کے بین الاقوامی شراکت داروں کو ایک دوسرے کیساتھ مل کر بیٹھنے میں سرگرم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے داعش دہشتگرد گروپ کیخلاف ایک مضبوط اتحاد کی تشکیل اور اس گروہ کیخلاف جنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

ظریف نے ایران اور افغانستان کے تعلقات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران، خوف-ہرات ریلوے لائن کے تیسرے حصے کی تعیمر میں سرگرم عمل ہے جو افغانستان کو ایرانی ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرتا ہے اور اس کے ذریعے علاقے اور پورے یورپ سے بھی منسلک ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوف – ہرات ریلوے لائن، تاجروں اور کار وباری حلقوں کو علاقائی اور بین الاقوامی بازراوں میں اپنی مصنوعات کی برآمدات کیلئے سہولیات کی فراہمی کرسکتا ہے۔

ظریف نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے افغان حکومت اور عوام کو مدد دینے کی پوری کوشش کرتا ہے اور اس حوالے سے تمام فریقین سے تعاون پر تیار ہے۔

یه بات قابل ذکر ہے کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا سب سے پہلا اجلاس 2011ء کو 14 ممالک بشمول ترکی، افغانستان، آذربائیجان، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغیزستان، پاکستان، روس، سعودی عرب، تاجیکستان، ترکمانستان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی شرکت سے انعقاد کیا گیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 4 =