جوہری معاہدے پر پورپ کی کارکردگی سے ناراض ہیں: ظریف

تہران، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم جوہری معاہدے پر عمل درآمد کیلیے یورپی یونین اور جوہری معاہدے کے رکن ممالک کی کمزور کارکردگی سے ناراض ہیں.

یہ بات محمد جواد ظریف' استنبول پہنچنے پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

استنبول میں منعقدہ 'ہارٹ آف ایشیا' کانفرنس کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے آٹھویں اجلاس کی شرکت کے لیے ترکی پہنچ گئے.

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے آٹھویں اجلاس کا "امن، تعاون اور خوشحالی" کے عنوان کے تحت ترکی میں انعقاد کیا جائے گا۔

انہوں نے گزشتہ ہفتے کو ویانا میں منعقدہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم جوہری معاہدے کے نفاذ کے لیے یورپی یونین کی کمزور کارکردگی پر ناراض ہیں.

ظریف نے اپنے دورے ترکی کے حوالے سے کہا کہ پڑوسی ممالک خاص طور پر ترکی اور روس کے ساتھ ہمارے تعلقات کو ایک خاص مقام حاصل ہے.

ایرانی وزیر خارجہ نے ایشین ہارٹ کے اجلاس کے اہداف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'قلب ایشیا' کی کانفرنس کا مقصد افغانستان میں قیام امن و استحکام اور ترقی کی توسیع کیلیے اس ملک کے ساتھ علاقائی تعاون کو بڑھانا ہے.

یه بات قابل ذکر ہے کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا سب سے پہلا اجلاس 2011ء کو 14 ممالک بشمول ترکی، افغانستان، آذربائیجان، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغیزستان، پاکستان، روس، سعودی عرب، تاجیکستان، ترکمانستان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی شرکت سے انعقاد کیا گیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 5 =