روس کے بغیر مستحکم آاسوٹوپ کی پیداواری کو جاری رکھ سکتے ہیں: ایران

تہران، ارنا – ایرانی جوہری ادارے کے ترجمان نے روس کے بغیر مستحکم آاسوٹوپ کی پیداواری کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے کہ روس امریکی چھوٹ کی عدم تجدید کی وجہ سے اس منصوبے سے دستبردار نہیں ہوگا۔

یہ بات "بہروز کمالوندی" نے پیر کے روز صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے تکنیکی لحاظ سے ہماری جوہری صنعت اعلی سطح پر ہے لہذا ہم اس منصوبے کو واحد طور پر جاری رکھ سکتے ہیں.
کمالوندی نے کہا کہ ہم اس منصوبے میں 11 قسم کے آاسوٹوپ تیار کریں گے جو چند سالوں میں مکمل ہوجائے گا مگر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ دنیا میں دو یا تین ممالک نہیں ہیں جن کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس امریکی چھوٹ کی عدم تجدید کی وجہ سے اس منصوبے سے دستبردار نہیں ہوگا اور وہ ایرانی جنوبی شہر بوشہر میں پاور پلانٹس کے نمبر 2 اور 3 کے منصوبے پر عملدرآمد کر رہا ہے.
انہوں نے کہا کہ ہم روس کے بغیر مستحکم آاسوٹوپ کی پیداواری کو جاری رکھ سکتے ہیں مگر پالیسی لحاظ سے ان کے ساتھ باہمی تعاون کرنا یقینا بہتر ہے.
ایرانی جوہری ادارے کے ترجمان نے کہا کہ ہم فردو تنصیبات میں سینٹری فیوجز سے استعمال کے بغیر مستحکم آاسوٹوپ کو تیار کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں.
انہوں نے فردو جوہری تنصیبات میں ریڈیو آاسوٹوپ منصوبے میں روس کے ساتھ تعاون کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے ساتھ گزشتہ ہفتے کے دوران اس موضوع پر مذاکرات کئے گئے اور یورینیم کی افزودگی کے بیک وقت میں مستحکم آاسوٹوپ تیار نہیں کیا جا سکتا ہے.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 0 =