8 دسمبر، 2019 6:22 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83586522
0 Persons
عمان کا ایران سے فوڈ سیکورٹی کی فراہمی کا مطالبہ

تہران، ارنا- عمانی وزیر برائے صنعت اور تجارتی امور نے عمان میں فوڈ سیکورٹی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس حوالے سے گوشت ذخیرہ کرنے اور خشک کرنے کیلئے گودام بنانے میں ایران سے تعاون کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات سمندری طوفان کی وجہ سے وقت پر گوشت سمیت کچھ اشیائے خوردونوش کی درآمدات ناممکن ہے لہذا ہمیں گوشت ذخیرہ کرنے اور خشک کرنے کیلئے ایک خاص گودام بنانا چاہتے ہیں اور اسی حوالے سے ایران سے تعاون کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "علی بن مسعود بن علی السنیدی" نے ایرانی ایوان صنعت اور تجارت میں منعقدہ ایران اورعمان کے مشترکہ تجارتی کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے ایران اور عمان کے معاشی اور تجارتی تعلقات میں مثبت اور تعمیری تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کی شرح ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

ایران سے تعلقات کے فروغ کا خواہاں

عمانی وزیر برائے صنعت اور تجارتی امور نے ایران کیساتھ تعلقات کی توسیع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک ارب ڈالر پر مشتمل تجارتی حجم کی شرح، اچھی پیشرفت ہے لیکن ایران اورعمان کے بے پناہ صلاحیتوں کے تناظر میں اس میں مزید اضافہ ہونا ہوگا۔

السنیدی نے کہا کہ حالیہ سالوں کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پرواز کا قیام کیا گیا ہے لیکن باہمی تعلقات کی فروغ کیلئے پروازوں کی تعداد کو بڑھانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سالوں کے دوران بندرعباس اور صحار کی بندرگاہوں کے درمیان سمندری نقل و حمل میں قابل قدر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اسی تناظر میں نقل و حمل کے خرچات میں کافی کمی آئی ہے اور بہت ساری مصنوعات کو براہ راست عمان میں برآمد کیا جاتا ہے۔

عمان کو علم کی بنیاد پر مبنی ایرانی کمپنیوں کی مدد کی ضرورت

عمانی وزیر برائے صنعت اور تجارتی امور نے کہا کہ عمان میں علم کی بنیاد پر مبنی کمپنیوں کی تعداد بہت کم ہےلیکن  ہمارے پاس ایسی کمپنیاں ہیں جو ڈرونز کی تیاری کے شعبے میں کام کرتی ہیں اور ہمیں اس شعبے کو ترقی دینے کیلئے ایرانی مدد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ہر کسی ملک کیلئے معلوماتی تحفظ کے معاملے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایران سے انفارمیشن سیکیورٹی کو بہتر بنانے میں تعاون کا مطالبہ کیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 4 =