جوہری معاہدہ کمیشن کی 14ویں نشست کا اختتام، مشترکہ بیان جاری

لندن، ارنا – جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ ایک کثیرالجہتی کامیابی اور عدم پھیلاؤ کا کلیدی عنصر ہے.

جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن نے گزشتہ روز اپنی 14ویں نشست میں اس معاہدے کے تحفظ اور نفاذ پر زور دیا.
تفصیلات کے مطابق، یورپی یونین کی نمائندہ "ہلگا اشمیٹ" کی قیادت میں جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے 14ویں اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران، برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روسی فیڈریشن کے نائبوں وزرائے خارجہ نے شرکت کی.
اس کمیشن کے اراکین نے امریکہ کی جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی دیانتداری کی تصدیق کرتے ہوئے پابندیوں کی نئی تجدید جو ایرانی مفادات کو روک کرتی ہیں، پر اپنے افسوس کا اظہار کیا.
اراکین نے کہا کہ جوہری معاہدہ ایک چند فریقی سمجھوتہ اور عدم پھیلاؤ کا اصلی عنصر ہے.
انہوں نے تازہ ترین تبدیلیاں سمیت ایران کے جوہری وعدوں میں کمی لانے کے فیصلوں پر اپنے تشویش کا اظہار کیا.
تمام فریقین نے اس معاہدے کے تحفظ اور مکمل نفاذ پر زور دیتے ہوئے ایرانی معیشتی مفادات کے تحفظ کی اہمیت پر اتفاق کیا اور ایران کو ایٹمی وعدوں کو مکمل طور پر نفاذ کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی حوصلہ افزائی کی.
انہوں نے عالمی جوہری ادارے کے کلیدی کردار پر زور دیا اور کہا کہ یہ اداراہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2231 قرارداد کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی دیانتداری کی نگرانی کر رہا ہے.
انہوں نے عدم پھیلاؤ کے مشترکہ منصوبوں کے نفاذ پر اتفاق کرتے ہوئے ایرانی اراک پاور پلانٹ کی تعمیر کے لئے اراک، برطانیہ اور چین کے مشترکہ گروپ کی کوششوں کا خیرمقدم کیا.
فریقین نے ایرانی فردو تنصیبات کی حالیہ تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پائیدار آاسوٹوپس منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھنے کے لئے روس کی کوششوں کے لئے اپنی حمایت کا اظہار کیا.
انہوں نے یورپ کے مالیاتی نظام انسٹیکس پر بیلجیم ، ڈنمارک ، فن لینڈ ، نیدرلینڈز ، سویڈن اور ناروے کی حکومتوں کی شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس مالیاتی نظام کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ قانونی تجارتی کی سہولیات کی فراہمی ہے.
انہوں نے تنازعات کی کمی کے لئے حالیہ اسٹریٹجک کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے تمام فریقین کی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا.
انہوں نے جوہری معاہدے سے متعلقہ چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 4 =