ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے تجربے پر سلامتی کونسل کی کوئی پابندی نہیں: ظریف

تہران، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت ایران میں بیلسٹک میزائلوں کے تجربے پر کوئی پابندی نہیں ہے.

 "محمد جواد ظریف" نے جمعہ کے روز اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں مزید کہا کہ امریکہ جوہری معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کا ذمہ دار ہے.

انہوں نے مزید کہ امریکی حکومت میں ایرانی امور کے مخصوص نمائندہ "برایان ہوک" نے جوہری معاہدے کے تین یورپی ممالک کو ایران جوہری میزائل پروگرام سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد 2213 کے اصولوں کا بروقت یاد دہانی کرائی جس کے تحت ایران میں بیلسٹک میزائلوں کے تجربے پر کوئی پابندی نہیں ہے.

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے گزشتہ روز کے دوران بھی اپنے ایک اور ٹوئٹر پیغام میں ایران مخالف تین یورپی ممالک کے حالیہ خط کے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کا یہ اقدام، جوہری معاہدے کے نفاذ سے متعلق ان کی نااہلی کو چھپانے کی کوشش ہے۔

ظریف نے مزید کہا کہ اگر یورپی ممالک، دنیا میں اپنی ساکھ کا تحفظ چاہتے ہیں تو وہ کو امریکی غنڈہ گری کے سامنے گٹھنے ٹیکنے کےبجائے خود مختاری کی راہ پر گامزن ہونے کو چن سکتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ تین یورپی ممالک بشمول جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے حالیہ دونوں میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹرش کو ایک خط میں تہران پر الزام لگایا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل اپنے میزائل پروگرام کو ترقی دے رہا ہے جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے۔

برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے سفیروں نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو ایک خط جاری کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تہران کا میزائل پروگرام 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک قرارداد سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مئی 2018 کو ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کی غیرقانونی اور یکطرفہ علیحدگی کے باجود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر 5 رکن ممالک یعنی فرانس، برطانیہ، روس اور چین نے ایران جوہری معاہدے کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 8 =