تیل اور بینکاری کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھانے کی صورت میں مذاکرات کریں گے: ایرانی وزیر تیل

ویانا، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر تیل نے کہا ہے کہ امریکہ کیساتھ مذاکرات کی شرط یہ ہے کہ ایرانی تیل اور بینکنگ شعبے پر عائد امریکی پابندیوں کو اٹـھایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار"بیژن نامدار زنگنہ" نے ویانا میں منعقدہ اوپک تنظیم کے 177 ویں اجلاس کے موقع پر ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے انسٹیکس میکنزم میں 6 یورپی ممالک کی شمولیت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ جب تک تیل مصنوعات کی لین دین سے حاصل شدہ رقوم کو انسٹیکس میکنزم میں منتقل نہیں کیا جاسکے تب تک کچھ نتیجہ حاصل نہیں ہوا ہے۔

زنگنہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر تیل مصنوعات کی برآمدات سے حاصل شدہ رقوم کو انسٹیکس کے ذریعے منتقل کیا جا سکے تو اس وقت یہ میکنزم موثر واقع ہوا ہے۔ انسٹیکس میں تیل کے رقوم آنے بغیر کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوا ہے۔

تیل کی قیمت میں مزید کمی لانے کی حمایت کریں گے

ایرانی وزیر تیل نے خام تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق ایرانی موقف کے بارے میں کہا ہے اگر تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق معاہدے کی تجدید ہوجائے یہ اوپک تنظیم کیلئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اوپک اجلاس میں تیل کی پیداوار میں مزید کمی لانے کا فیصلہ کیا جائے وہ بھی ایک بڑی کامیابی ہے جس کی بھر پور حمایت کریں گے۔

زنگنہ نے روس کیجانب سے تیل کی پیداوار میں کمی کے معاہدے میں اپنے حصے سے گیس کنڈینسیٹ کو ہٹانے کی درخواست کو بھی معقول قرار دے دیا۔

  انہوں نے کہا کہ ہم اوپیک میں کنڈیسیٹ کے بارے میں نہیں بلکہ خام تیل سے متعلق بات کر رہے ہیں لہذا یہ انصاف نہیں ہے کہ وہ جو اوپک کے معاملات میں نہیں ہے اس کو روس سے مطالبہ کریں۔
ایرانی وزیر تیل نے کہا کہ اگرچہ روس اوپک کا ممبر نہیں ہے لیکن اس کیساتھ اس طرح سلوک کیا جانا چاہئے جس طرح اوپک رکن ممالک کیساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔

انہوں نے ایران کیساتھ تیل کے شعبے میں تجارت سے متعلق یورپی کمپنیوں کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ہم ان کیلئے کچھ نہیں کرسکتے وہ خود تجارت کرنے کے طریقے کو جانتی ہیں یا کہ وہ امریکہ سے ایران کیساتھ تیل کے شعبے میں تجارتی لین دین کیلئے جواز لے سکتی ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 3 =