انیسٹکس میں چھ یورپی ممالک کی شمولیت ایک مثبت اقدام ہے: ظریف

تہران، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں چھ یورپی ممالک مالیاتی نظام انسٹیکس پر شمولیت ایک مثبت اقدام ہے.

یہ بات "محمد جواد ظریف" نے بدھ کے روز ایرانی حکومت کے کابینہ کے اجلاس کے موقع پریس بریفینگ میں خطاب کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے عمانی وزیر خارجہ کے دورے ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے یوسف بن علوی کا مقصد پڑوسیوں کے درمیان مذاکرات اور مشاورت تھا جو اچھے گفتگو کی گئی.
ظریف نے کہا کہ عمان کے مشترکہ کمیشن کے چیئرمین 6 دسمبر کو اسلامی جمہوریہ ایران کا دورہ کریں گے.
انہوں نے دھمکیاں اور یورپ کے وعدوں کے موثر نہ ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جوہری معاہدے کی حمایت کے دعوی کرنے والے ملک سے توقع نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو نایاب دوا فروخت کرنے سے انکار کرے.
انہوں نے جِلدی بیماری ایپڈر مولیزس بیلوسا کے شکار مریضوں کے ضروری دوا کی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مریضوں کے درد کو کم کرنے کے لئے مخصوص پٹی تمام ممالک میں پیدا نہیں کیا جاتا ہے، ہمیں سویڈش دواسازی کی کمپنی اسے فروخت کیا تھا مگر بد قسمتی سے گزشتہ سال سے امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کے آغاز کے ساتھ اس سویڈش کمپنی نے ایران کو اس پٹی کی فروخت کو روک کردیا ہے اور ابھی تک کوئی مناسب متبادل نہیں ملا.
انہوں نے سویڈن کو اپنے مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپ کے مالیاتی نظام اینسٹکس پر آپ کی شمولیت اچھی ہے لیکن ، جیسا کہ امریکہ خود بھی دعوی کرتا ہے کہ ادویات اور انسانی معاملات پر پابندیاں عائد نہیں کی گئی ہے ، لہذا ان پر عمل درآمد نہ کریں۔

یاد رہے کہ بیلجیم ، ڈنمارک ، سویڈن ، فن لینڈ ، ناروے اور ہالینڈ نے حالیہ دنوں میں ایک مشترکہ بیان میں جوہری معاہدے کی حمایت میں ایران کیلئے یورپ کے مخصوص مالیاتی نظام انسٹیکس میں شمولیت پر دلچسبی کا اظہار کیا۔
انہوں نے عراق میں ایرانی قونصل جنرل میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے کہا کہ سیکیورٹی کی پیش گوئی کی گئی تھی، ہم نے محفوظ عمارات میں اپنے عملے کی موجودگی پر پہلے ہی فیصلہ لیا تھا، ہماری کسی بھی دستاویزات اور ہمارے کارکنوں کو نقصان نہیں پہنچ گیا.
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے قونصل جنرل کا تحفظ اور نقصانات کا معاوضہ عراقی حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے.
تفصیلات کے مطابق، ، گزشتہ ہفتہ عراق کے شہر نجف اشرف میں شرپسندوں نے قائم ایرانی قونصل جنرل پرحملہ اور اس میں آگ لگا دیا.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 4 =