ایران کا عالمی جوہری ایجنسی سے غیرجانبدارانہ رویہ رکھنے پر اصرار

لندن، ارنا - ویانا میں قائم بین الاقوامی اداروں میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو غیرجانبدارانہ رویہ اپنانا ہوگا.

یہ بات "کاظم غریب آبادی" نے پیر کے روز "رافائل ماریانو گروسی" عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تقرری کی حتمی منظوری کی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے کہا کہ ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کو یک طرفہ غیرقانونی اقدامات کے ساتھ روکنا نہیں اور دوسرے ممالک کی کسی بلاجواز پیشگی شرائط کے تابع نہیں ہونا چاہئے۔
غریب آبادی نے عالمی جوہری ادارے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر اپنے ایٹمی منصوبے اور ضروریات کی بنیاد پر اس ادارے کے نمایان کردار پر توجہ مرکوز رکھتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی 2231 قرارداد کے مطابق، ایران کی دیانتداری کی نگرانی آئی اے ای کی اصلی ذمہ داری ہے، ہمارا ملک اس ادارے کے اہم شراکت دار ہے.
انہوں نے کہا کہ رواں سال کے نومبر تک عالمی جوہری ادارے نے 588 بار کے لئے ایرانی ایٹمی منصوبے کی نگرانی کی ہے لہذا اس ادارے کے ساتھ تعلقات کا تحفظ نہایت اہم ہے جس میں غیرجانبدارانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے.
ایرانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی شک نہیں ہے کہ کہ این پی ٹی (جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدہ) کے تین ستونوں کی بقا اور جوہری ادارے کی ساکھ بڑی حد تک ان اصولوں کی پابندی پر منحصر ہے۔
یاد رہے کہ عالمی ایٹمی توانائی ادارے کے نئے سربراہ "رافائل ماریانو گروسی" کے عہدے پر تقرری کی حتمی منظوری کی نشست منگل کے روز ویانا میں منعقد کی گئی.
وہ لاطینی امریکہ سے آئی اے ای کے پہلے سربراہ ہوں گے جو قبل ازیں ادارہ میں ارجنٹائن کے سفیر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے تھے۔
وہ مستقبل قریب میں ایرانی حکام کیساتھ ملاقات کیلئے ایران کا دورہ کریں گے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 0 =