جب تک جوہری معاہدہ ہو، ایران سے تجارت کے حامی رہیں گے: برطانیہ

لندن، ارنا - ایران میں تعینات برطانوی سفیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک جب تک جوہری معاہدہ قائم رہے گا تب تک ایران سے تجارت کی حمایت جاری رکھے گا.

"روب میکئر" نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق یورپ کے تین ممالک کیجانب سے جاری شدہ حالیہ بیان جس میں انسٹیکس میکنزم میں 6 دیگر یورپی ممالک کی شمولیت کا ذکر کیا گیا ہے، پر تبصرہ کیا اور کہا کہ اس بیان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جب تک جوہری معاہدہ اپنی جگہ پر قائم ہے تب تک ہم تجارت کے فروغ کیلئے اس معاہدے کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے جو ایرانی قوم کے مفادات میں بھی ہے۔

انہوں نے پیر کے روز ایک ٹوئٹر پیغام کے ذریعے مزید کہا کہ اس بیان کے رد عمل میں بعض افراد کی باتیں انتہائی حیرت کن ہے کیونکہ ہم نے بدستور ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اپنے خدشات کا اظہار کرلیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرمنی، برطانیہ اور فرانس نے گزشتہ ہفتے کے دوران ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایران کیلئے یورپ کا مالیاتی نظام انسٹیکس میکنزم میں بلیجیم، سوئڈ، فینلانڈ، ناروے اور ہالینڈ کی شمولیت کا خیر مقدم کریں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے ایران اور یورپ کے درمیان تجارتی لین دین کو فروغ دینے کی یورپی کوششیں ظاہر ہوتی ہیں جو ایران جوہری معاہدے پر بدستور قائم ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یورپ کے مخصوص مالیاتی نظام کا مقصد جسے انسٹیکس میکنزم کا نام دیا گیا ہے، ایران مخالف امریکی پابندیوں کو بائی پاس کرنا ہے، اس کا اہم کام ایران کے ساتھ تجارتی لین دین کی حمایت کرنا ہے.

یورپ کے مخصوص مالیاتی چینل کا مرکزی دفتر پیرس میں ہے اور یہ تجارتی تبادلے کے سازوسامان کا مخفف ہے.تینوں یورپی ممالک انسٹیکس میکنزم کے حصہ دار ہیں اور ایک نامور جرمن بینکر اس کی قیادت کررہے ہیں.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 10 =