ایران اور عراقی علاقے کردستان کا باہمی تجارت کو 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم

تہران، ارنا - عراقی علاق کردستان کی ایکسپورٹ امپورٹ یونین کے صدر کے مطابق، کردستان اور ایران کی باہمی تجارت کو 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا سنہری موقع میسر ہے.

یہ بات "شیخ مصطفی عبدالرحمن" نے پیر کے روز ایران اور عراق کے درمیان تجارتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے درمیان تجارتی تبادلات کی سطح سالانہ 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

عبدالرحمن نے ایرانی اور عراقی علاقے کردستان کے تاجروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ تعلقات ایرانی مصنوعات کی درآمدات پر منحصر نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم علاقے کردستان میں مصنوعات کی پیداواری، ایرانی پیدا کرنے والے اور کمپنیوں کی شراکت داری کے لئے بھرپور کوشش کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے اقتصادی سرگرم کارکن اس خطے میں کمپنیاں قائم کرنے کے لئے پرعزم ہیں کیونکہ یہاں معیشتی سرگرمیوں کی ضروری سیکورٹی موجود ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا اور کہا کہ علاقے کردستان عراقی حکومت کے نمائندے کے طور پر ایرانی برآمد کرنے والوں کے ساتھ باہمی تعاون کے لئے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں اعلی صلاحیتوں کے ساتھ مختلف کمپنیاں موجود ہیں جو ہم اس موقع سے استعمال کرسکتے ہیں۔

انہوں نے عراقی علاقے کردستان میں ایرانی قونصل جنرل کے ساتھ تعلقات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس قونصل جنرل کی جانب سے تاجروں کا تعارف کرنا دوطرفہ تجارتی تعلقات بڑھانے کا باعث بنے گا۔

تفصیلات کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے درمیان تجارتی کا پیر کے روز تہران میں انعقاد کیا گیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 4 =