ایران، یوریشیا کا قابل اعتماد شراکت دار بن سکتا ہے: ایرانی وزیر توانائی

تہران، ارنا- ایرانی وزیر توانائی کا عقیدہ ہے کہ ایران، خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے مابین پل کا کردار ادا کرنے اور فوسیل ایندھن کے ذخائر سے مستفید ہونے سمیت ایک وسیع منڈی میں قائم ہونے کی وجہ سے یوریشیا کیلئے ایک قابل اعتماد اور موزوں شراکت دار بن سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "رضا اردکانیان" نے اتوار کے روز دارالحکومت تہران میں یوریشیا سے تجارت سے متعلق منعقدہ کانفرنس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی سالوں مذاکراتی عمل کے بعد گزشتہ سال کے مئی مہینے میں ایران اور یوریشین یونین کے درمیان عارضی آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیا گیا ہے۔

اردکانیان نے مزید کہا کہ ہم تین سال کی آزمائش کے بعد اسے آزاد تجارتی معاہدے میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایرانی وزیر توانائی نے کہا کہ ان تین سالہ مرحلے کو نفاذ کے طریقے اور اس سے برآمد ہونے والے نتایج کی حیثیت سے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے والے افراد کو ایک دوسرے کیساتھ قریبی تعاون سے معاہدے پرعملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے نیک نیتی سے کام کرنا چاہئے.

ایرانی وزیر توانائی نے اس بات پر زور دیا کہ اگلے سال سے شروع ہونے والے آزادانہ تجارت کے مذاکرات کی توسیع کیلئے پہلے سے ہی تیاریوں کو فراہم کرنا ہوگا۔

انہوں نے ایران اور یوریشن یونین کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے نفاذ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے  پر زور دیا اور کہا کہ اس معاہدے پر سنجید گی سے عمل کرنے کی صورت میں وہ ایران اور یوریشین یونین ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دے گا۔

اردکانیان نے ہمسایہ ممالک کیساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ کو ایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سر فہرست قرار دے دیا۔

انہوں نے یوریشین اقتصادی یونین کے فریم ورک کے اندر ایک نئے معاشی بلاک کی تشکیل کو ایک انتہائی تعمیری کام قرار دے د یا اور کہا کہ پچھلی دہائی میں اس یونین کی تشکیل، علاقائی تعاون اورعلاقائیت کی پالیسی کی ایک عمدہ مثال رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس کے ذریعے خطے میں مزید امن اور سکون قائم ہوجائے گا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 1 =