ایران امریکہ مسائل کے حل کا سیاسی ارادہ بدستور موجود ہے: ایرانی اسپیکر

تہران، ارنا- ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مسائل کو حل کرنے کا سیاسی ارادہ بدستور موجود ہے اور اس ضمن میں کوئی ڈیڈلاک نہیں بلکہ بعض حلقوں کے درمیان گفتگو جاری ہے.

ان خیالات کا اظہار "علی لاریجانی" نے امریکی نیور چینل سی بی ایس کے نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے صحافیوں کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی غلط اقدام ہے اور امریکہ کو اپنے اس رویے کا سدھارنا ہوگا۔

 ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ اس حوالے سے بعض ممالک کی کوششیں جاری ہیں اور ہم نے بھی مذاکرات کا باب کھولا رکھا ہے لیکن یہاں اصل بات یہ ہے کہ امریکہ کو سمجھنا ہوگا کہ جو رویہ اس نے اپنایا ہے وہ بالکل غلط ہے۔

آیت اللہ سیستانی کے ہوتے ہوئے ایران کو عراق کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے

انہوں نے عراق میں حالیہ کشیدگی کے حوالے سے کہا ہے کہ عراق میں آیت اللہ سیستانی کے ہوتے ہوئے اور ان کی جامع سربراہی کیساتھ ہمیں عراق کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے کیونکہ آپ کو اس مسئلے کے تمام پہلووں سے پوری واقفیت حاصل ہے۔

لاریجانی نے مزید کہا کہ جب امریکہ نے عراق پر قبضہ جمانے کیلئے داعش دہشتگرد گروپ کو اکسایا اسی وقت ایران نے داعش کیخلاف جنگ اور اس دہشتگرد گروہ کی تباہی کیلئےعراق کی مدد کی۔

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ اب ہم سمجھتے ہیں کہ آیت اللہ سیستانی، حکمت عملی کیساتھ اسی مسئلے کیلئے کوئی حل نکالیں گے اور اگر وہ ہم سے مدد مانگیں تو ہم خدمت میں حاضر ہیں لیکن تدبیر ان کا ہے۔

مذاکرات کا باب کھولا ہے لیکن گستاخانہ باتوں سے گریز کرنا ہوگا

انہوں نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق یورپی ممالک کے کیے گئے وعدوں کے نفاذ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھانا چاہتے ہیں بلکہ وہ کہتے ہیں یہ اقدام ان کے بس کی بات میں نہیں ہے۔

لاریجانی نے مزید کہا کہ ملک کے اندر بعض لوگ بھی یورپ کے اس موقف سے اتفاق کرتے ہیں لیکن بہر حال جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد ایران کو بھی اس معاہدے کے مفادات سے مستفید ہونا تھا جوکہ ایسا نہیں ہوا۔

ایرانی اسیپکر نے کہا کہ ہمیں اسی مسلئے کیلئے کوئی حل نکالنا ہے اور بعض یورپی ممالک بھی اس حوالے سے کچھ کوششیں کر رہی ہیں لیکن اس سے کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نلکے ابھی پورے طور پر واضح نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن اگر یورپی ممالک ایران کیخلاف سخت اقدمات اٹھانے کا فیصلہ کریں تو ایران بھی عالمی جوہری ادارہ کیساتھ اپنے کیے گئے وعدوں پر نظر ثانی کرے گا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 3 =