جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا آئندہ اجلاس مشکل کا سامنا ہوگا: روسی مندوب

ماسکو، ارنا – ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی میں تعینات روسی مندوب نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا آئندہ اجلاس مشکل کا سامنا ہوگا اور مذاکرات کے دوران چیلنج پیش آنا ممکن ہے۔

یہ بات "میخا‏ئل اولیانوف" نے جمعہ کے روز اپنے ٹوئٹر پیج میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے کے آخری دنوں میں جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کا انعقاد ہوگا اور اس معاہدے کی موجودہ صورتحال کی مبنی پر مذاکرات کے دوران چیلنج پیش آنا ممکن ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین نے حالیہ دنوں میں ایک باضابطہ بیان میں اعلان کردیا کہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیش کا اگلا اجلاس 6 دسمبر کو ماہرین کی سطح پر ویانا میں منعقد ہوگا جس میں جوہری معاہدے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
یورپی یونین کے خارجہ اقدامات کی سیکریٹری جنرل "ہلگا اشمیٹ" کی قیادت میں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اس اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے علاوہ جوہری معاہدے کے دوسرے رکن ممالک سمیت روس، چین، جرمنی، فرانس اور برطانیہ شریک ہوں گے۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل نے 8 مئی کو جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اور دوسرے فریقین کی بدعہدی کی وجہ سے اپنے ایک بیان میں اعلان کردیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران قومی مفادات کے تحفظ اور فراہمی کے لئے اس معاہدے کی شق نمبروں 26 اور 36 کے مطابق، اپنے جوہری وعدوں میں کمی لانے کا فیصلہ کرے گا۔
اس وقت سے اب تک ایران چوتھے مرحلوں کے دوران اپنے وعدوں میں کمی لایا ہے اور اس نے یورپی فریقین کو انتباہ کیا کہ ایک بار پھر یک طرفہ جوہری معاہدے کو نفاذ نہیں کرے گآ۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 11 =