ایران اور پاکستان کے درمیان ایک ارب ڈالر کا سرحدی لین دین

زاہدان، ارنا - پاکستان سے ملحقہ ایران کے سرحدی صوبے سیستان و بلوچستان کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تجارت کی سطح ایک ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ چکی ہے.

یہ بات صوبہ سیستان و بلوچستان کے ادارہ صنعت و تجارت کے سربراہ "نادر میرشکار" نے جمعرات کے روز پاک ایران سرحدی تجارت کے ساتویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ماضی کے فیصلوں کے تحت سرحدی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانا ہوگا.
میرشکار نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دینی، ثقافتی اور مذہبی مشترکہ تعلقات قائم ہیں اور ابھی صورتحال میں سمندری اور زمینی سرحدوں کی وجہ سے سرحدی تبادلات بڑھانے کے لئے اچھے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان اور پاکستانی صوبے بلوچستان کے درمیان سرحدی تبادلات میں اضافے ہونے کے ساتھ اس علاقوں کی معیشتی صورتحال بہتر بن جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی تبادلات کو بڑھانے کے لئے مشترکہ نشستوں کے انعقاد کی ضرورت ہے۔
پاکستانی وفد کے نمائندے نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کی حکومتیں تجارتی تعلقات بڑھانے کے لئے پر عزم ہیں اور غیرقانونی تجارتی تعلقات کو روکنا نہایت اہم ہے۔
پاک ایران سرحدی تجارتی کمیٹی کے ساتویں اجلاس کا جمعرات کے روز ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان کے شہر زاہدان میں آغاز کیا گیا۔
اس اجلاس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تجارتی، تاجروں، نقل و حمل، کسٹم اور قونصلر امور اور ویزے کے مسائل کے جائزہ اور حل کرنا ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 8 =