سمندری امور کا عالمی ادارہ ایران کے خدشات کو جائز سمجھتا ہے: سنیئر ایرانی عہدیدار

لندن، ارنا - بین الاقوامی سمندری امور کی تنظیم کے 31ویں اجلاس میں شریک ایرانی وفد کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ ادارہ امریکہ کی جانب سے ڈالی جانے والی رکاوٹوں کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خدشات کو جائز سمجھتا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ سمندری معاملات کو دیکھنے والی عالمی تنظیم اور اس کے ممبران امریکہ کے منفی رویے سے متعلق ایرانی خدشات کو جائزہ سمجھتے ہوئے ہمارے مؤقف کی تائید کرتے ہیں.

ان خیالات کا اظہار ایرانی پورٹس اینڈ شپینگ اتھارٹی کے دائریکٹر مینجر "محمد راستاد" نے منگل کے روز لندن میں منعقدہ بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم کی جنرل اسمبلی کے 31 ویں اجلاس کے موقع پر ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم کے اصولوں کے مطابق غیر محدود سرگرمیوں اور سمندری تحفظ کی فراہمی کی ضرورت کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خدشات، جائز اور قانونی ہیں۔

راستاد نے مزید کہا کہ بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم کی مہارت اور اقوام متحدہ پر اس کے انحصار کے پیش نظر، اس کے پاس ایران مخالف امریکی پابندیوں کو ختم کرنے کا کوئی قانونی جواز اور اختیار نہیں ہے۔

ایرانی پورٹس اینڈ شپینگ اتھارٹی کے دائریکٹرمینجر نے مزید کہا کہ بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم کے رکن ممالک کا عقیدہ ہے کہ ایران کے خدشات جائز اور درست ہیں لیکن امریکہ کیجانب سے خاص طور پر بین الاقوامی نجی شپنگ کمپنیوں کیخلاف لاحق خطرات، ایرانی جہاز رانی کے شعبے پر بُرے اثرات مرتب کریں گے۔

 واضح رہے کہ بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم کی جنرل اسمبلی کے 31 ویں اجلاس کا 25 نومبر کو لندن انعقاد کیا گیا جس میں میں نائب ایرانی وزیر برائے شہری ترقی اور ایرانی پورٹس اینڈ شپینگ اتھارٹی کے دائریکٹر مینجر "محمد راستاد" نے ایک وفد کی قیادت میں حصہ لیا ہے۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ سال کے دوران سمندری نقل و حمل کے شعبے پر ایران مخالف امریکی پابندیوں کے بُرے اثرات کے رد عمل میں ایک دستاویز کا مسودہ تیار کیا اور اسے انٹرنشنل میری ٹائم آرگنایزیشن کونسل کے ممبروں کے سامنے پیش کیا تھا جس سے سوائے امریکہ کے اکثر اراکین کا اتفاق کیا۔

ایرانی پورٹس اینڈ شپینگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ دستاویز کے مندرجات پر اشارہ کیا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سمندری صنعت پر امریکی پابندیاں بین الاقوامی سمندری کنونشن کی روح کے منافی ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اس کنونشن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ رکن ممالک کو ایسے انداز میں کام کرنا چاہئے جو تجارتی شپنگ سرگرمیوں کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کریں اور سمندری ماحول اور میری ٹائم سیکورٹی کے تحفظ کو خطرات کا سامنا نہ کیا جائے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 0 =