بھارت کا چابہار پورٹ سے تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور

دہلی نو، ارنا- بھارتی محکمہ خارجہ نے اپنی پارلیمنٹ کو دی گئی رپورٹ میں چابہار پورٹ کے فعال ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان نے رواں سال کے فروری مہینے سے اب تک چابہار کے ذریعے 5 مصنوعات کی کھیپوں کو بھارت میں منتقل کر دیا ہے۔

بھارتی اخبار اکونومک ٹائمز کے مطابق ایران مخالف امریکی پابندیوں کی وجہ سے چابہار پورٹ میں بھارتی سرگرمیوں کی رکاوٹ سے متعلق نشر کیے گئے پچھلی رپورٹوں کے برعکس، بھارتی محکمہ خارجہ نے اعلان کر دیا ہے کہ ان کے ملک نے چابہار بندرگارہ میں قائم "شہید بہشتی" کمپلکس کے پہلے فیز کی تکمیل میں حصہ لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی پورٹس کی بین الاقوامی کمپنی نے 2018ء کے دسمبر مہینے سے اب تک شہید بہشتی گودی  پورٹ کے پہلے فیز کے آپریشنل عمل پر کامیابی کیساتھ نگرانی کی ہے اور وہ جہازوں کی ترسیل کو سنبھالنے میں کامیاب رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان بھی اسی بندرگاہ کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور رواں سال کے فروری مہینے سے اب تک 5 مصنوعات کی کھیپوں کو چابہار کے ذریعے بھارت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

بھارتی محکمہ خارجہ نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کے حوالے سے کہا کہ امریکہ کو چابہار پورٹ کے ذریعے افغانستان میں انسان دوستانہ امداد کی ترسیل اور اس ملک کی معاشی امداد کی اہمیت پر پوری طرح واقف ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسرے ممالک نے بھی ایرانی بندرگاہ چابہار کے منصوبوں میں شمولیت پر اپنے دلچسبی کا اظہار کردیا ہے۔

چابہار کے دوسرے فیزوں کی تکمیل اور توسیع کیلئے دوسرے ممالک کی شمولیت کے حوالے سے فیصلہ ایرانی ہی کرے گا اور بھارت صرف شہید بہشتی گودی پورٹ کی نگرانی کیلئے ایران سے تعاون کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ چابہار میں شہید بہشتی بندرگاہ کے پہلے فیز کو مکمل کرنے کے ذریعے افغانستان سے براہ راست منسلک ہونے سمیت، شمال-جنوب کوریڈور کے ذریعے اپنے مصنوعات کو وسطی ایشیا میں برآمد کر سکے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی، بھارتی اور افغان صدور نے گزشتہ دو سال میں چابہار ٹرانزیٹی باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کردئے جس کے ذریعہ ایشیا کے جنوب مشرقی اور وسطی ایشیا کے ممالک، روس، قفقاز، بحیرہ عمان اور بحر هند کے تمام ممالک کے درمیان تجارتی تبادلوں کی سہولیات فراہم ہوگی.

چابہار کے سہ فریقی معاہدے کی مدد سے بھارت اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ میں مزید آسانی ہوئی ہے اور اس کے علاوہ علاقائی ممالک کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا ہوگا.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2017ء کے دسبمر مہینے میں شہید بہشتی کے پہلے فیز کا افتتاح کیا گیا جس کی افتتاحی تقریب میں ایرانی صدر مملکت حسن روحانی سمیت بھارت اور دیگر ممالک کے نمائندوں نے حصہ لیا تھا۔

واضح رہے کہ چابہار بندرگاہ بحیرہ عمان میں واقع ہے اور چابہار کے ذریعے افغانستان اور بھارت کو سمندری راستوں سے ایک دوسرے کیساتھ منسلک کرنے میں مزید آسانی ہوگی۔

دہلی نو نے چابہار پورٹ کی توسیع کیلئے 50 کروڑ کی سرمایہ کاری اور بھی سڑکوں اور ریلوے کے ایک مجموعے کی تعمیر کیلئے بھی 5۔1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ د یا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 3 =