جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس 6 دسمبر کو منعقد ہوگا

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیش کا اگلا اجلاس 6 دسمبر کو ماہرین کی سطح پر ویانا میں منعقد ہوگا جس میں جوہری معاہدے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

 ان خیالات کا اظہار سید "عباس موسوی" نے پیر کے روز ایک پیرس کا نفرنس کے دوران صحافیوں کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اجلاس میں ایران کیجانب سے جوہری معاہدے سے متعلق اٹھائے گئے حالیہ اقدامات سمیت جوہری معاہدے کے دیگر اراکین کے اقدمات اور ان کے کیے گئے وعدوں کے نفاذ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

موسوی نے ایران کی حالیہ کشیدگی اور اندرونی معاملات میں امریکی حکام کی مداخلت کے رد عمل میں کہا کہ ان کے یہ اقدامات، ایران کی اندرونی معاملات میں مداخلت اور ملک کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے تحت ہے۔

٭٭٭ ہرمز امن منصوبے پر تین ممالک نے مثبت رد عمل کا اظہار کیا ہے

انہوں نے خلیج فارس میں امریکہ کیجانب سے سمندری فوجی اتحاد کی تشکیل کے حوالے سے کہا کہ ہم خطے میں اغیار کی ہر کسی طرح کی موجودگی کی مذمت کرتے ہیں اور اس اقدام کو علاقے کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کے باعث جانتے ہیں۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ خطی سلامتی کو برآمد یا کہ خرید نہیں کیا جا سکتا بلکہ تمام خطی ممالک کے درمیان تعاون کے ذریعے علاقے میں قیام امن کی فراہم ہوگی۔

موسوی نے مزید کہا کہ تمام ممالک کو خطے کے امن و سلامتی کی فراہمی میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی صدر مملکت کی حالیہ تجویز کردہ ہرمز امن منصوبہ بھی اسی سلسلے میں ہے اور ہم نے اس منصوبے میں تمام ممالک کی شمولیت پر زور دیا ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اب تک تین ممالک نے ہرمز امن منصوبے پر مثبت رد عمل کا اظہار کیا ہے ار دوسرے ممالک بـھی اس منصوبے میں شمولیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔

***ایران، علاقے کی کشیدگی کو کم کرنے کی ہر کسی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے

انہوں نے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورہ ایران اور ان کی ایرانی وزیر خارجہ کیساتھ ملاقات میں جنرل باجوہ  کیجانب سے ایران کیلئے سعودی عرب کے ممکنہ پیغام لانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی آرمی چیف نے ایرانی اعلی حکام کیساتھ ملاقتیں کیں۔

موسوی نے کہا کہ ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں فریقین نے مختلف مسائل بشمول باہمی تعلقات، مشترکہ سرحدیں، اغوا کیے گیے ایرانی سرحدی اہلکار اور خطی مسائل پر  بات چیت کی گئی۔

انہوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان تعمیری اور اچھے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان، خطی ممالک اور اسلامی ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کیلئے کردار ادا کرنے پر دلچسبی رکھتا ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان کی اس نیک نیتی کا خیر مقدم کرتے ہوئے خطی کشیدگی میں کمی لانے اور اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی ہر کسی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 0 =